نیب نے آغا سراج درانی کیخلاف ریفرنس احتساب عدالت میں میں پیش کر دیا

کراچی(پبلک نیوز) نیب حکام نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کیخلاف 13 فولڈرز پر مشتمل کرپشن ریفرینس پیش کر دیا۔ عدالت نے وکیل صفائی کو نقول فراہم کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

 

کراچی کی احتساب عدالت کے روبرو آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کیخلاف سماعت ہوئی۔ جیل حکام نے سخت سیکیورٹی میں آغا سراج درانی کو پیش کیا۔ نِیب کے تفتیشی افسر نے آغا سراج درانی کیخلاف ریفرنس عدالت میں پیش کر دیا۔ آغا سراج درانی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہماری ایک اور درخواست ابھی تک زیر التوا ہے۔ یہ ریفرنس قابل سماعت نہیں ہے۔ اور عدالت پابند نہیں ہے کہ لازمی ہی سماعت کے لیئے منظور کرلیں۔ اس ریفرنس کو قبول کرنے سے پہلے ہماری درخواست سن لی جائے۔

 

عدالت نے ریمارکس دیئے یہ ریفرنس قابل سماعت ہے یا نہیں اسکا فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ آغا سراج درانی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس ریفرینس کی نقول فراہم کی جائیں۔ عدالت نے وکیل صفائی کو ریفرینس کی نقول فراہم کرتے ہوئے سماعت 17 جون تک ملتوی کر دی۔ واضع رہے کہ آغا سراج درانی کیخلاف دائر ریفرنس 13 فولڈرز پر مشتمل ہے۔ ریفرنس میں آغا سراج درانی سمیت 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان پر ایک ارب 60 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ ریفرنس ابھی باقاعدہ سماعت کے لئے منظور نہیں کیا گیا۔ عدالت میں ابھی ریفرنس کی دس نقول فراہم کی گئیں۔

 

سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں آغا سراج درانی نے کہا کہ 3 مہینے سے اسکا انتظار کر رہے تھے۔ اب جا کر ریفرنس فائل ہوا ہے، اسکا بھرپور دفاع کریں گے۔ ایک سوال پر آغا سراج نے کہا کہ حکومت ہے کدھر؟ آپ کس حکومت کی بات کر رہے ہیں؟ یہ حکومت 50 لوگوں کو سنبھال نہیں سکتی۔ اس حکومت کو جیالوں کا علم نہیں ہے۔ جیالوں نے ضیا کے مارشل لا اور مشرف جیسے آمر کا سامنا کیا ہے۔ میں یہاں پیش ہوتا ہوں تو یہاں بھی جیالے آجاتے ہیں۔ کیا ان پر بھی لاٹھی چارج کیا جائے گا؟ اگر جیالوں نے قانون کا توڑا ہو تو الگ بات ہے، لیکن بلا کسی وجہ کے لاٹھی چارج کرنا غلط بات ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں