آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، علیم خان کے گرد تحقیقات کا گھیرا مزید تنگ

لاہور(شاکر اعوان) علیم خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، نیب لاہور نے علیم خان کیخلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت بھی انکوائری کا آغاز کر دیا۔ علیم خان 1 ارب 46 کروڑ کی رقم سے متعلق وضاحت نہیں دے سکے۔

 

نیب لاہور نے آف شورز کمپنیز، آمدن سے زائد اثاثہ جات کے بعد علیم خان کیخلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب لاہور کی ریجنل بورڈ میٹنگ میں ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے جواینٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ پر علیم خان کیخلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے تحت بھی انکوائری کی منظوری دے دی۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ علیم خان نے بیرون ملک جو رقم منتقل کی اس سے متعلق مطمن نہیں کر سکے۔

 

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ علیم خان نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھی رقم بیرون ملک منقل کی جبکہ علیم خان دوران تفتیش 1ارب 47 کروڑ روپے سے متعلق مطمن نہیں کر سکے۔ نیب ذرائع کے مطابق علیم خان نے درجنوں آف شورز کمپنیز کے زریعے برطانیہ، یو اے ای اور برٹن ورجن آئیسلینڈ میں جائیدادیں بنا رکھی ہے۔

 

نیب کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علیم خان کے پبلک آفس ہولڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اثاثوں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ نیب لاہور نے علیم خان کے بہنوئی فراز چوہدری، ان کی کمپنیوں کی دیکھ بھال کرنے والے عمر فاروق اور اور بیرون ملک انوسٹمنٹ کرنے والے بزنس مین نعمیر حمید خان کو طلبی کے متعدد نوٹس بھجیے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں افراد بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں