نیب لاہور نے سابق صوبائی وزیر سبطین خان کو گرفتار کر لیا

لاہور (پبلک نیوز) نیب لاہور نے ایک کارروائی کے دوران سابق صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ پنجاب ملزم محمد سبطین خان کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

 

ملزم پر چنیوٹ اور راجوہ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن آئرن عور کے غیرقانونی ٹھیکہ جات من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے۔ ملزم کی جانب سے جولائی 2007 میں میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے کے غیرقانونی احکامات جاری کیے۔

 

نیب لاہور کے مطابق ملزم  کی دیگر شریک ملزمان سے ملی بھگت سے ٹھیکہ ای آر پی ایل کو مروجہ قوانین سے انحراف کرتے ہوئے فراہم کیا گیا۔ 2018 میں پنجاب گورنمنٹ کیجانب سے آگاہ کرنے پر نیب لاہور نے ملزمان کیخلاف کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا۔ ای آر پی ایل نامی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربہ کی حامل نہ تھی پھر بھی ملزم نے ملی بھگت سے اسے کنٹریکٹ فراہم کیا۔

 

قومی احتساب بیورو کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کیجانب سے کیس ریفر کرنے پر نیب لاہور نے ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ کیجانب سے ٹھیکہ کی بڈنگ کے مراحل میں کسی دوسری کمپنی کو شامل ہی نہ کیا گیا۔ جبکہ پنجاب مائنز نے بظاہرصرف 20 فیصد کی شراکت پر رضامندی ظاہر کی اسطرح یہ جائنٹ وینچر سرعی طور پر غیر قانونی تھا۔

 

ملزمان کی جانب سے ایس ای سی پی کو منصوبہ کی تفصیلات کبھی فراہم نہ کی گئیں اس دوران منصوبہ پر کام بھی جاری رکھا گیا۔ ملزم محمد سبطین نے چنیوٹ کے اربوں مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کیے۔ نیب لاہور حکام ملزم محمد سبطین خان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے احتساب عدالت کے روبرو پیش کریں گے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں