نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سوالنامہ بھیج دیا

لاہور(مستنصر عباس) احتساب بیورو(نیب لاہور) نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈنگ میں 22 اپریل کے لیے سوالنامہ بھیج دیا، حمزہ شہباز 12 اور 16 اپریل کو نیب لاہور میں پیش ہو چکے ہیں، تاہم 10 اپریل کو انہوں نے پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔

 

نیب لاہور کی جانب سے حمزہ شہباز کو 22 اپریل کے لیے سوالنامہ بھیجا گیا ہے، جس میں حمزہ شہباز کو گزشتہ برس اور رواں برس جاری ہونے والے تمام طلبی کے نوٹسسز میں درج مختلف سوالات کے جوابات مانگے گئے ہیں۔2005ء سے لے کر اب تک کی تمام کمپنیوں کی سرمایہ کاری، کمپنیوں پر قرض، سلمان شہباز اور نصرت شہباز کے ساتھ شراکت داری کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حمزہ شہباز کو 2006ء سے 2008ء کی ٹیکس ریٹرز اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع نہیں کرائیں،2005 سے 2017 کے دوران بڑھنے والے اثاثوں کے تفصیلی جواب دینے کی ہدایت۔ شریف فیملی پر لگائے گئے الزامات کے مطابق 1999 میں ان کے اثاثہ جات 5 کروڑ 36 تھے۔

 

10 سالوں میں ان کی دولت 68 کروڑ 33 لاکھ ہوگئی، جو اب سوا 3 ارب کے قریب ہے، جس کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ حمزہ شہباز، فضل داد عباسی، قاسم قیوم اور مشتاق چینی سے ملنے والے پیسوں سے متعلق جوابات بھی مانگے گئے ہیں۔ حمزہ شہباز کو اب تک موصول ہونے والے تحائف اور وصول کی جانے والی تنخواہوں کی بھی تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب لاہور حمزہ شہباز سے طلبی پر موصول ہونیوالی معلومات کی بنیاد پر ہی ملزم کی ضمانت منسوخی کیلئے ہائی کورٹ سے استدعا کرے گا، جس کے باعث حمزہ شہباز کی 22 اپریل کی پیشی کو انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں