نیب لاہور کی شہباز شریف فیملی کیخلاف انکوائری حتمی مراحل میں داخل

لاہور(شاکر محمود اعوان) نیب لاہور کو شریف فیملی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات منی لانڈرنگ اور اختیارات سے تجاوز کے خلاف انکوائری میں 50 سے زائدا فراد نے بیانات قلمبند کرا دیئے، تحریری بیان جمع کرانے والوں میں بنک ماہرین، ایف بی آر، ایس ای سی پی، شریف گروپ آف انڈسٹریز کے ملازمین شامل ہیں۔

 

شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز سمیت فیملی کے دیگر ارکان کےخلاف نیب انکوائری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، نیب نے 50 سے زائد افراد کے تحریری بیانات قلمبند کر لیے ہیں، نیب ذرائع کے مطابق مختلف نجی بنکوں کی مسلم ٹاؤن، کوپر روڈ، بادامی باغ، سرکلر روڑ، کوٹ لکھپت برانچ سمیت 10 بنکوں کے افراد اور ایف بی آر، ایس ای سی پی، پی اینڈ ڈی، اور سرکاری ملازمین کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔

 

بیانات قلمبند کرانے والوں میں مزدور، ریٹربھی بان، پرائیویٹ افراد اور شریف گروپ آف انڈسٹریز کے ملازمین بھی شامل ہیں، نیب ذرائع کے مطابق چیف فنانشل افسر شریف گروپ آف کمپنیز محمد عثمان، چیف اکاؤنٹس مسرور انور، اکاؤنٹنٹ فضل داد، عباسی، قاسم قیوم ،عاصم قیوم، افضال حیدر، منظور احمد، مسرور انور کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے دیگر افراد، میں محمد یونس ،محمد نواز، محمد شریف جٹ، شامل ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے شریف فیملی کو منتقل ہونے والی رقوم سے متعلق ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں، ان شواہد کی روشنی میں آئندہ چند دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں کی جاسکتی ہیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں