نیب: شریف فیملی کے 2 درجن ملازمین کا ریکارڈ حاصل، منی لانڈرنگ کیس میں ہوشربا انکشافات

لاہور (شاکر محمود اعوان) شہباز شریف اینڈ کمپنی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں مزید ہو شربا انکشافات، چھوٹے میاں اور بڑے میاں کے بعد اب ملازمین بھی نیب کے ریڈار، نیب نے شریف فیملی کے 2 درجن ملازمین کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چھوٹے میاں اور بڑے میاں کے بعد اب ملازمین بھی نیب کے ریڈار پر آگئے۔ نیب لاہور نے شہباز شریف فیملی کے ملازمین کے خلاف بھی تحقیقات کے دوران منی لانڈرنگ کے شواہد حاصل کر لیے۔ نیب لاہور کو شریف فیملی کے 2 درجن سے زائد ملازمین کے بینک اکاؤنٹس کے سی ٹی آر او ایس ٹی آر رپورٹس موصول ہو گئیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: شریف فیملی کا چپڑاسی بھی ارب پتی نکلا، بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ موصول رپورٹس کے مطابق شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے اکاؤنٹس میں رقوم جمع ہوتی تھیں۔ ملازمین کے اکاؤنٹس میں 3 ارب 40 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئیں۔ شریف فیملی کے کمپنیز کے چیف فنانشل آفیسر محممد عثمان کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے اپنی خدمات بھی انجام دیتے رہے ہیں۔

نیب کی جانب سے شریف فیملی کی کمپنیوں کے اکاؤنٹ آفیسر مسرور انور، محمد یونس، محمد نواز کی خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ شریف فیملی کے ملازمین محمد نواز، شریف جٹ، سید محمد، محمد حنیف ،محمد شفیق، محمد اکبر، خواجہ حفیظ احمد، عبدالغفار کی خلاف بھی تحقیقات کی زد میں ہیں جبکہ بشارت علی، ملک مقصود، شاہد رفیق اور عدنان مظفر کیخلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

 

پڑھنا نہ بھولیں: نیب لاہور کا شہباز شریف کی فیملی کے بعد ملازمین کیخلاف تحقیقات کا آغاز

 

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف فیملی نے مسلم ٹاؤن، پیکو روڈ، سرکلر روڈ میں واقع نجی بنکوں میں ملازمین کے اکاؤنٹس بنا رکھے تھے جن میں پہلے رقم جمع ہوتی پھر وہ رقم شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جاتی۔

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں