آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل، شہبازشریف کا 14روزہ ریمانڈ منظور، رمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتاری

لاہور (پبلک نیوز) آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل  کیس میں شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد احتساب عدالت پیش کیا گیا۔ نیب کی جانب سے شہباز شریف کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آشیانہ اقبال کیس میں گرفتار شہباز شریف کو چوتھی بار احتساب عدالت پیشی کے لیے لایا گیا۔ راہداری ریمانڈ ختم ہونے پر شہباز شریف کو اسلام آباد سے لاہور لایا گیا۔ احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ہنگامہ آرائی کی اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں بھی شہبازشریف کی گرفتاری ڈال دی ہے۔ رمضان شوگر مل میں 21 کروڑ 50 لاکھ کی کرپشن کی گئی۔ آشیانہ اسکینڈل میں بھی شہباز شریف کے خلاف مزید مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ قومی اسمبلی اجلاس کے باعث تفتیش نہیں کر سکے۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ حلفاً کہتا ہوں کہ پروڈکشن آرڈر کے دوران بھی نیب والے مجھ سے تفتیش کرتے رہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آج تک آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں نیب کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دے سکی، لہذا کوئی وجہ نہیں جس پر مزید ریمانڈ دیا جائے۔

سماعت کے دوران شہباز شریف کی تفتیشی افسر کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تفتیشی افسر نے کہا شہبازشریف کے پاس تفتیش کے لیے گیا تو شہباز شریف نے آنکھیں دکھائیں اور کہا کیوں کرنی ہے مجھ سے تفتیش۔ جس پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا میں نے ایسی حرکت کبھی نہیں کی۔ وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو سابق وزیراعلیٰ خاموش ہو گئے۔

نیب نے شہباز شریف سے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ میں مزید 15 دن کی توسیع کی استدعا کی۔ جس پر عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ دیتے ہوئے شہباز شریف کو 24 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ جبکہ رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیا گیا۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں