نیب نے پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم دشمن عناصر کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

لاہور(شاکر محمود اعوان) نیب نے تعلیم دشمن عناصر کیخلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا، جامعہ پنجاب میں غیر قانونی بھرتیوں اور جعلی ڈگری پر تعینات پروفیسرز سے ان کی ڈگریوں کی نقول طلب کر لی، پروفیسرز کی تعینانی سے متعلق رپورٹ طلب۔

 

نیب لاہور نے جامعہ پنجاب میں فنڈز کی خرد برد، پنجاب یونیورسٹی میں اختیارات سے تجاوز، غیر قانونی بھرتیوں اور جعلی ڈگریوں پر تعینات افراد کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، نیب لاہور نے ہیلے کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر عبدالخالق، کمیونیکیشن اسڈڈی کی اسسٹنٹ پروفیسر عائشہ اشفاق اور پرنسپل اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شاہد کمال کی پرسنل فائل، تقرری فائل اور سلیکشن بورڈ کی جانب سے رزلٹ شیٹ سمری طلب کر لی ہے۔

 

نیب ذرائع کے مطابق 2014ء کو ہونے والی سنڈیکیٹ میٹنگ 1079 کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ہیں اور ایسوسی ایٹ پروفیسر تک ترقی پانے والے پروفیسرز کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں، نیب ذرائع کا کہنا ہے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے دور میں غیر قانونی طور پر بھرتیاں اور جعلی ڈگریوں کے حامل اساتزہ کی تعیناتی ہوئیں۔

 

نیب کے مطابق عائشہ اشفاق کی تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات کیا گیا۔ نیب لاہور کی جانب سے جامعہ پنجاب کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کےخلاف ریفرنس بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ نیب کے مطابق ریفرنس آئندہ ماہ تک احتساب عدالت لاہور میں فائل کر دیا جائے گا۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں