شہباز شریف فیملی کا کالا دھن سفید کرنے والا نیب کے ریڈار پر آگیا

لاہور(شاکر محموداعوان) شہباز شریف فیملی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، نیب نے شریف گروپ آف کمپنیز کے چیف فنانشل افسر کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے اور نیب نے ایف بی آر، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دیگر اداروں سے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

 

شریف فیملی کے چیف فنانشل افسر شریف گروپ آف انڈسٹریز محمد عثمان کےگرد نیب نے گھیرا تنگ کر لیا، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عثمان شریف فیملی کے اکاؤنٹس کو مینج کرنے کے عوض 30 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے اور شہباز شریف فیملی کی منی لانڈرنگ، بے نامی کمپنیوں اور بے نامی اکاؤنٹس کا سارا ریکارڈ محمد عثمان کے پاس ہے۔

محمد عثمان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور شریف گروپ آف کمپنیز میں 13 سال سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، شریف گروپ آف انڈسٹریز کی 10 سے زائد کمپنیوں سمیت متعدد بے نامی اکاؤنٹس کو دیکھتا ہے، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کے سب کچھے چٹھے کا ریکارڈ محمد عثمان کے پاس ہے اور ضرورت محسوس ہونے پر محمد عثمان کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

 

نیب ذرائع کے مطابق محمد عثمان فضل داد عباسی، مسرور انور کو رقم بینک اکاونٹس میں منتقل کرنے کےلیے دیتا تھا،فضل داد عباسی نے بھی دوران تفتیش سارا ملبہ محمد عثمان پر ڈال دیا ہے،فضل داد عباسی نے نیب کو بیان دیا کہ چیف فنانشل افسر جو ہدایات دیتے ہیں بس ان پر عمل کرتا تھا، نیب ذرائع کے مطابق فضل داد عباسی، مسرور انور،شعیب قمر، مصور انور، مزمل منیر نے اربوں روپے کی ٹرانزیکش کیں۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں