فرٹیلائزرز کمپنیوں کا فارنزک آڈٹ کیا جائے گا، معاون خصوصی برائے پیٹرولیم

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ جو کمپنیاں کھاد کی قیمت میں جی آئی ڈی سی وصول کر رہی ہیں ان کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ کمپنیوں کا فارنزک آڈٹ کیا جائے گا۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کمپنیوں نے کسانوں پر کتنا چارج کیا۔ اگر تو انہوں نے جی آئی ڈی سی کی قیمت کسانوں سے وصول کر لی ہے تو وہ رقم ان کو دینا پڑے گی۔

 

تفصیلات کے مطابق شہر اقتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، گزشتہ حکومت نے سی این جی سیکٹر کو 50 فیصد چھوٹ دی تھی۔ جو بجلی بنانے والی کمپنیاں ٹیرف میں جی آئی ڈی سی شامل کرے گی انکو چھوٹ نہیں ملے گی۔ جو کمپنیاں کھاد کی قیمت میں جی آئی ڈی سی وصول کر رہی ہیں ان کو چھوٹ نہیں ملے گی۔

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ کابینہ کا فیصلہ تھا کہ کمپنیوں کا فارنزک آڈٹ کیا جائے گا اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اگلے چند دن میں آرڈیننس میں فارنزک آڈٹ شامل کر دیا جائے گا۔ یہ ہماری کوتاہی ہے کہ قوم کو تفصیل سے آگاہ نہیں کر سکے۔ آرڈیننس یہ کہتا ہے کہ جو کمپنیاں چھوٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ حکومت کے ساتھ معاہدہ کریں۔

 

ندیم بابر کا کہنا تھا کہ فرٹیلائزرز کمپنیوں سے معاہدے سے پہلے ان کا آڈٹ ہوگا۔ یہ کابینہ کے فیصلے میں شامل تھا کہ جب تک آڈٹ نہیں ہوگا معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کمپنیوں نے کسانوں پر کتنا چارج کیا۔ اگر تو انہوں نے جی آئی ڈی سی کی قیمت کسانوں سے وصول کر لی ہے تو وہ رقم ان کو دینا پڑے گی۔

 

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ میں دو آئی پی پیز کے ساتھ منسلک رہا ہوں۔ میں اوریئنٹ پاور میں شیئر ہولڈر ہوں، 2014 میں وہ کمپنی ایل این جی پر شفٹ ہو گئی۔ میری کمپنی نے جی ائی ڈی سی کی مد میں 28 ملین زائد دیے۔ اگر سارے لوگ اس آپشن کو استعمال کرتے ہیں تو ہمیں 150 سے 160 ارب روپے مل جائیں گے۔

 

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں