"شہباز شریف وزیرِاعظم پر ذاتی حملوں سے گریز کریں، آخری موقع دیا جا رہا ہے"

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو متنبہ کیا ہے کہ وزیرِاعظم پر ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے۔ انہیں آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کیے جائیں گے۔

قائد حزب اختلاف کی تنقید پر ان کو متنبہ کرتے ہوئے نعیم الحق کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈرز گالم کلوچ کے لیے جاری نہیں کیے جاتے۔ آج وزیرِاطلاعات نے بھی کہا کہ وزیرِاعظم کی آمد پر طعنہ زنی کی گئی، فقرے کسے گئے۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ منتخب وزیرِاعظم کو سیلیکٹڈ کہا گیا۔ ضیا کی ہیچری سے نکلنے والے برائلر انڈے وزیرِاعظم کو سیلیکٹد کہتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ قوم کے ٹیکس سے ہونے والے پارلیمان کے اجلاس بد تہذیبی، بد تمیزی اور ذاتی مخاصمت کی نظر ہوتے جارہے ہیں۔ نہ عوام کے مسائل کی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی قانون سازی پر کوئی دھیان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پہ ستم یہ کہ اپوزیشن رہنما کھلے بندوں کہتے ہیں پارلیمان نہیں چلنے دیں گے ۔ آج تو حد ہی ہو گئی جب سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے دھمکی دی اپوزیشن لیڈر اجلاس میں نہیں آ سکتے تو وزیرِاعظم کو بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔

نعیم الحق نے کہا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں عوام کے منتخب وزیرِ اعظم کو سیلیکٹڈ کہا جائے۔ انہیں ایوان میں آنے سے روکنے کی دھمکیاں دی جائیں۔ جمہوریت کا دم بھرنے اور راگ الاپنے والی حزبِ اختلاف بے دردی سے جمہور اور جمہوریت کی توہین میں مصروفِ عمل ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی بات کی جائے تو اس نے جمہوری نظام کی بقا کی خاطر جیل میں بند اور کرپشن کے الزامات کے حامل شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے۔ انہیں  پی اے سی کا چئیرمین بھی لگا دیا۔

اپنی گفتگو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواجہ سعد اور ان کے بھائی کے بھی پروڈکشن آرڈرز جاری کیے۔ اس سارے عمل پر خود حکومتی وزراء معترض رہے لیکن جمہوریت کے استحکام کے لیے حکومت نے یہ کڑوے گھونٹ پیے۔ اب حزبِ اختلاف کو بھی ہوش کے ناخن لینے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں