کراچی: شہریوں کیلئے ایک اور بڑا خطرہ سر اٹھانے لگا

کراچی (پبلک نیوز) اہلیان کراچی کے لیے بڑا خطرہ دوبارہ سر اٹھانے لگا، گرمیوں کا موسم آتے ہی جان لیوا وائرس نگلیریا دوبارہ متحرک ہوگیا، 21 سالہ نوجوان نگلیریا کے باعث جناح اسپتال میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ڈائریکٹر ایمرجنسی جناح اسپتال کراچی ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اورنگی کے رہائشی انس کو اٹھارہ اپریل کی رات تیز بخار کے باعث اسپتال لایا گیا تھا۔ جہاں طبی ٹیسٹ میں انس کو نیگلیریا کی تصدیق ہوئی تھی، رواں سال نگلیریا وائرس سے یہ پہلی موت ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیگلیریا دراصل گرم موسم میں تازہ پانی مثلاً جھیلوں، تالابوں، سوئمنگ پولز اور نلکوں وغیرہ میں پرورش پانے والا وائرس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ پانی میں کلورین کی صحیح مقدار کا شامل نہ ہونا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک امیبا ہے جو بہت زیادہ گرم درجہ حرارت میں زندہ رہتا ہے۔ یہ خاص طور سے صاف پانی میں ہوتا ہے جیسا کہ پانی کے ٹینک جو کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور سورج کی تپش سے گرم ہو جاتے ہیں۔ اس میں یہ بہت آسانی سے پرورش پاتا ہے۔

سوئمنگ پول اور صاف پانی میں نہانے والے، ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنے والے اور گرم پانی استعمال کرنے والے اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ جراثیم صرف اور صرف ناک کے راستے دماغ میں داخل ہو سکتا ہے۔ دماغ میں پہنچنے کے بعد یہ دماغ کو کھاتا ہے۔

ماہرین طب کے مطابق اس بیماری کے شکار ہونے والے 97 فیصد لوگوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مثلاً امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں اعداو شمار کے مطابق 1962ء سے 2013ء کے دوران کُل 132 افراد میں نیگلیریا فولیری انفیکشن کی تصدیق ہوئی اور ان میں سے محض تین افراد کی زندگی بچ سکی۔

ماہرین طب کے مطابق اگر نیگلیریا فولیری سے متاثرہ پانی کو پی لیا جائے تو اس سے انفیکشن ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہ انفیکشن کسی ایک متاثرہ فرد سے دوسرے کو منتقل ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہوتا تاہم احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں