قومی کھیل ہاکی سال2018ء کے اختتام پر 12ویں پوزیشن پر آگئی

لاہور(پبلک نیوز)سال2018 قومی کھیل ہاکی کے لیے استعفوں کا سال رہا، مینجمنٹ اور کوچز کی نئی تعیناتیوں اور استعفوں کی خبریں عروج پر رہیں۔ انٹرنیشنل ہاکی سیریز اوپن کی شکل میں چودہ سال بعد انٹرنیشنل ہاکی کی وطن واپسی بھی اہم لمحہ ہے۔

 

قومی کھیل ہاکی سال 2018ء میں بھی بہترنہ ہو سکا۔ رینکنگ میں 13ویں پوزیشن پر براجمان پاکستانی ہاکی ٹیم معجزانہ طور پر سال کے اختتام پر 12ویں پوزیشن پر آگئی۔ پاکستان ہاکی ٹیم نے اس سال 33 میچوں میں 13 جیتے 8 ڈرا، جبکہ 12 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر ہاکی ٹیم نے 101 گول کیے جبکہ 63 گولز مخالف ٹیموں نے کیے، آٹھ برس بعد ورلڈ کپ کھیلنے کے باوجود ایک بھی میچ میں فتح کا مزا نا چکھا۔

 

پورے سال کی واحد اہم کامیابی ایشین چیمپئن ٹرافی کا بھارت کے ساتھ فائنل بارش کی نذر ہونے پر مشترکہ چیمپئن بننا رہا۔ ہاکی فیڈریشن میں ڈرائریکٹرڈومیسٹک اینڈ ڈوولیپمنٹ اولمپیئن نوید عالم کو فیڈریشن سے بغاوت پر عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا، غیرملکی کوچ رولینٹ آلٹمنٹ کی تعیناتی کے بعد ورلڈکپ سے قبل چھوڑجانے اور ورلڈکپ کے بعد منیجر اور کوچز کا مستعفی ہونا ہاکی کے کھیل کو استحکام نہ دے سکا۔

 

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انٹرنیشنل ہاکی کے بند دروازے بھی چودہ سال کے بعد انٹرنیشنل ہاکی سیریز اوپن کی صورت میں کھل گئے، جس میں ازبکستان، قازقستان، افغانستان اور نیپال کی ٹیموں نے شرکت کی۔ آئندہ سال ہونے والی پرولیگ کے لیے بھی ٹیم اور مینجمنٹ کا اعلان تاحال نہیں ہو سکا۔ عہدوں کی لڑائی نے قومی کھیل کو تباہ کر دیا، آنے والا سال کیسا رہے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

عطاء سبحانی  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں