العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نوازشریف کا بطور ملزم بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں ملزم نوازشریف کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ حسین نواز کی تصویر رضا کار نے لیک کی، واجد ضیا آج بھی نام بتانے سے گریزاں رہے۔ خواجہ حارث کے سوال پر سکیورٹی ایشوز کا کہہ کر ٹال دیا۔ واجد ضیا نے کہا کہ اچھی طرح تسلی کی تھی کہ قطر سے آنے والا خط حمد بن جاسم کا ہی ہے۔

نیب نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں شواہد مکمل ہونے سے متعلق حتمی  بیان احتساب عدالت میں جمع کرا دیا۔ عدلت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں  ملزم نواز شریف کا بیان قلمبند کرنے کی نیب کی استدعا منظور کرلی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور اجازت ملنے پر عدالت سے روانہ ہو گئے ۔

نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں خواجہ حارث کی واجد ضیا پر جرح جاری رہی۔ واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے اچھی طرح تسلی کی تھی کہ قطر سے آنے والا خط حمد بن جاسم کا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 جون 2017 سے پہلے جے آئی ٹی میں ملزمان حسن نواز، حسین نواز اور طارق شفیع، سعید احمد اور عمر چیمہ سمیت  دس گواہان کا بیان ریکارڈ کر چکے تھے۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ قطری شہزادے حمد بن جاسم کے علاوہ  کسی نے بھی سوالنامہ پہلے بھیجنے کی درخواست نہیں کی۔ خواجہ حارث نے واجد ضیا سے پوچھا کہ کیا آپ نے العزیزیہ ریفرنس میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی فیصلہ کر چکی تھی کہ سوالنامہ کسی کو نہیں بھیجیں گے؟ واجد ضیا نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کا ہی فیصلہ تھا کہ پیشگی سوالنامہ کسی کو نہیں بھیجا جائے گا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ سے کسی اور ریفرنس میں دیئے گئے بیان سے متعلق نہیں پوچھا جا سکتا۔ عدالت نے خواجہ حارث کے سوال پر نیب کا اعتراض مسترد کر دیا۔

حسین نواز کی تصویر لیک ہونے پر واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ معاملہ پر انکوائری ہوئی تھی اور رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع بھی کروائی گئی تھی، میں تصاویر لیک کرنے والے رضا کار کا نام پبلک کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ جس کے جواب میں خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ کو بھی سکیورٹی ایشو ہیں؟ نیب کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں کل 22 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے 20اپریل اور 28جولائی 2017 کے فیصلے کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کر دیں۔ خواجہ حارث نے نیب پراسیکیوٹر کے بیان پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 20 اپریل کا فیصلہ اس ریفرنس سے متعلق نہیں۔ دوسرا فیصلہ آ جانے کے بعد پرانا فیصلہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ریفرنس کی سماعت کل صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ کل بھی خواجہ حارث واجد ضیاء پر آٹھوی روز جرح جاری رکھیں گے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں