ن لیگ کے سیاسی منظرنامہ پر 'نواز بیانیہ' کی واپسی

سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی، نیب کیسز میں سزا ہونے اور شہباز شریف کی صدارت نے ان کے اور مریم نواز کے بیانیہ کے حامیوں کو پس منظر جانے پر مجبورکر دیا تھا۔

عدالتوں کی جانب سے لیگی رہنماؤں کے تندوتیز بیانات پر نوٹس اور کارروائی ہونے کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز کے قریب سمجھے جانے والے رہنما منظر عام سے غائب سے ہو گئے تھے۔

دانیال عزیز، طلال چوہدری، مائزہ حمید، انوشہ رحمان اور بھی دیگر رہنماؤں کی جانب سے بیانات بھی کم ہوئے اور ٹاک شوز میں بھی ان کی موجودگی اور نمائندگی کم ہو گئی۔

اس ساری صورتحال میں ن لیگ کی جانب سے شہباز شریف کے قریب سمجھے جانے والے حلقہ کی نمائندگی بڑھ گئی تھی۔

اب جبکہ ن لیگ کے لیے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں اور میڈیکل بورڈ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور طبی بنیادوں پر ان کی رہائی کی درخواست بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ہے۔

آج ملاقاتوں کے موقع پر اس گروہ میں سے طلال چودھری کافی عرصہ بعد میڈیا کے سامنے آئے اور ان کا انداز بھی کافی جارحانہ نظر آیا۔

مائزہ حمید بھی اب ٹاک شوز پر دوبارہ نظر آ رہی ہیں۔ ان رہنماؤں کے متحرک ہونے سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ نوازشریف کے بیانیہ کا حامی طبقہ کیا دوبارہ ن لیگ میں مضبوط ہو رہا ہے اور کیا مریم نواز دوبارہ سیاسی کردار ادا کرنے کی تیاری میں ہیں؟

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں