نواز شریف نے سیاسی کیریئر میں کب کب ڈیل کا سہارا لیا؟

ادریس شیخ

سابق وزیراعظم نوازشریف کسی بھی قسم کی ڈیل قبول کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران متعدد بار ڈیل کی۔

حدیبیہ انجنیئرنگ، جاتی امرا محل، ایون فیلڈ پراپرٹیز، شریف ٹرسٹ، ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ، ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں، رائے ونڈ روڈ کرپشن سمیت متعدد انکوائریز شروع کی گئیں۔

ہیلی کاپٹر کیس میں احتساب عدالت نے 22 جولائی سال دوہزار کو نواز شریف کو 14 سال قید اور 2 کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ عدالت نے نواز شریف کو 21 سال کے لیے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل بھی قرار دیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کراچی کے جج رحمت حسین جعفری نے 6 اپریل سال دوہزار کو نوازشریف کو طیارہ سازش کیس میں پرویز مشرف اور 198 مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی۔ اے ٹی سی نے نواز شریف کی جائیداد ضبطی اور، 55 ہزار 500 امریکی ڈالرز جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔

10 اکتوبر 2000 کے سندھ ہائی کورٹ نے اے ٹی سی کا فیصلہ برقرار رکھا، نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں 2009 میں سپریم کورٹ کو ریلیف ملا۔

ستمبر 2007 کو سعودی انٹیلی جنس کے چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز اور لبنانی سیاستدان سعد الحریری نے نواز شریف کے 10 سالہ معاہدے کا اعلان کیا اور نہ از شریف کو معاہدے کی پاسداری کی درخواست کی۔

سعودی انٹیلی جینس چیف اور سعد الحریری نے پرویز مشرف سے ملاقات بھی کی اور میڈیا کو معاہدے کی کاپی بھی دکھائی، سعودی سفیر عواض العسیری بھی اس موقع پر موجود تھے۔

17 اکتوبر 2007 کو سپریم نے نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ نواز شریف کے قید سے سعودی عرب کے سفر کو جبری جلاوطنی نہیں کہا جا سکتا۔ شریف برادران نے اپنی مرضی سے سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف نے فروری 2006 میں کسی بھی ڈیل یا معاہدے کی نفی کی۔ معاہدے پیش کیا تھا مگر میں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ستمبر 2007 میں ہی نوازشریف نے برطانیہ میں پریس کے سامنے معاہدہ کا اعتراف کر لیا۔

ذرائع کے مطابق غیر مشروط معاہدہ پر نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف اور حسین نواز نے دستخط کیے جس کے بعد صدر مملکت رفیق تارڑ نے 9دسمبر سال دوہزار کو سزا معافی کی درخواست منظور کی۔ نواز شریف 14 ماہ قید میں گزارنے کے بعد بیرون ملک روانہ ہوئے۔

نیب اور ایف آئی اے نے بھی نواز شریف کو جانے انجانے میں فائدہ پہنچایا۔ لاہور ہائی کورٹ نے 26 جون 2009 کو نواز شریف کو ہیلی کاپٹر کیس، 11 مارچ 2014 کو حدیبیہ پیپر ملز کیس اور رائے ونڈ اسٹیٹ کیس، 6 فروری 2015 کو قرض ڈیفالٹ کیس سے بری کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ لاہور ہائی کورٹ سے ہی 12 جون 1997 کو نواز شریف کے خلاف حدیبیہ انجنیئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کے کیسز خارج ہوئے مگر نیب اور ایف آئی اے نے عدالت عالیہ کے فیصلے وقت پر چیلنج ہی نہ کیے۔

تین بار وزیراعظم کے منصب پر براجمان رہنے والے نواز شریف کو عدالت عظمیٰ تاحیات نااہل قرار دے چکی ہے۔

احمد علی کیف  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں