فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت، نوازشریف کا اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار

اسلام آباد(پبلک نیوز) احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت، سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ کی طرح فلیگ شپ ریفرنس میں بھی اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ میرے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

 

احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری ہے، سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں 4 سوالات کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ نواز شریف نے العزیزیہ اورایون فیلڈ کی طرح پھر اپنا دفاع پیش نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے دفاع میں کچھ پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ استغاثہ میرے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ حسین اور حسن نواز کے میرے زیر کفالت ہونے کا بھی ثبوت نہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ میرے خلاف بنائے گئے مقدمات بدنیتی پر مبنی ہے۔ سمندر پار 80 لاکھ پاکستانیوں کی کاروبار ہے۔ کیا بیرون ملک سارے پاکستانیوں کی کاروبار غلط ہے؟ کیا ان سب پر مقدمہ کرنا چاہیے؟ کیا ان سارے کاروباری لوگوں کو کٹہرے میں لایا جائے؟ کیا ان سب سمندر پار پاکستانیوں پر اسی طرح الزامات لگائے جائے؟ اگر نہیں تو پھر دو بیٹوں کے والد کو کیوں کٹہرے میں کھڑا کیا؟ شاید ہی اسی طرح کا احتساب کسی کا ہوا ہوں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار کیلئے حالات موزوں نہیں رہے تو میرے والد نے بیرون ملک کاروبار کیا، ان ساری صنعتی سرگرمیوں کا تعلق اسی وقت سے ہے، جب میں سیاست میں نہیں تھا۔ سیاست میں آنے کے بعد میں کاروباری سرگرمیوں سے الگ ہو گیا۔ چوہدری شوگر ملز، مہران، اور کچھ کاروبار 1992میں شروع کیا۔ والد صاحب نے کچھ فلاحی ادارے بھی شروع کئے۔

 

نواز شریف نے دوران بیان اپنے اثاثے گنوانے شروع کر دیے۔1969ء میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہمارے خاندان کے دس دس کنال پر مشتمل 7 کوٹھیاں بنائیں۔ ہم 1970ء میں انڈیا کا ٹاٹا گروپ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ میاں نواز شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 22کروڑ عوام میں سے صرف دو بیٹوں اور ایک باپ کو مشانہ بنایا جارہا رہا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ تسلیم کیا گیا پاکستان سے باہر کوئی پیسہ نہیں گیا پھر بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ ہمارے خاندان کاروبار پر جو کچھ گزری یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے۔ ہماری مزہبی سماجی روایات سے بھی اس ریفرنس کا کوئی تعلق نہیں۔ استغاثہ نے چار باتیں ثابت کرنی ہوتی ہیں۔ جائیداد کا قبضہ بے نامی کا مقصد بھی استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ استغاثہ کو قانون تقاضے پورے کرنے چائیں تھے جو نہیں کئے گئے۔


انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے سچائی پر مبنی معاملے کو بدعنوانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ بیرون ملک بہت سی پاکستانی کاروباری شخصیات ہیں۔ کیا ان سب سمندر پار پاکستانیوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا چائیے؟ استغاثہ کسی جرم میں میرا تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ جس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا کچھ اور کہنا چائیں گے؟ نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا شکر گزار ہوں جو مجھے منتخب کرتے رہے ہیں۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں