'واپس جیل بھیجا جائے' نواز شریف کا دل کے ہسپتال منتقلی سے انکار

لاہور (شعیب ہاشمی) نوازشریف نے سروسز اسپتال سے پی آئی سی منتقلی سے انکار کر دیا۔ کہتے ہیں مزید اذیت نہیں سہہ سکتا۔ واپس جیل بھیجا جائے۔ پہلے ہی پی آئی سی جا چکا ہوں۔ حکومت نے ماہر امراض قلب کا نیا بورڈ تشکیل دے کر سروسزہسپتال میں ہی نوازشریف کے علاج معالجے کا فیصلہ کر لیا۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پانچویں روز سروسزہسپتال سے پی آئی سی میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے جیل جانے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر میڈیکل بورڈ نے تین گھنٹے سے زائد ملاقات کی اور انہیں میڈیکل رپورٹس اور ٹیسٹوں کے حوالے سے مکمل آگاہ کیا۔

چھ رکنی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو دل کے ہسپتال منتقل کرنے کا کہا کہ جس پر انہوں نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ سامان باندھ چکا ہوں مزید اذیت نہیں برداشت کر سکتا۔ جیل واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے پی آئی سی جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی وہاں جا چکا ہوں اب دوبارہ کیوں جاؤں۔

نوازشریف کے انکار کے بعد پنجاب حکومت نے نوازشریف کو سروسزہسپتال میں رکھتے ہوئے دل کے ماہر امراض کا نیا بورڈ تشکیل دے کر یہیں ان کے علاج کا فیصلہ کیا، دوسری جانب مریم نواز اپنے والد سے چار گھنٹے کے قریب ملاقات کی۔

مریم نواز نوازشریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کیے بغیر ہی واپس چلی گئیں۔ تاہم کارکنان کی جانب سے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیتی رہیں۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کارکنوں کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا۔

احمد علی کیف  8 ماه پہلے

متعلقہ خبریں