کسی اور سے تحقیقات کرا لیں، میرا جے آئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں: نوازشریف

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اراضی کیس سے متعلق سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے کہا معاملہ مزید تحقیق کا ہے، تو کیوں نہ جے آئی ٹی بنا دیں؟ نوازشریف نے کہا جے آئی ٹی کے بجائے کچھ اوربنا دیں، جے آئی ٹی کا میرا تجربہ اچھا نہیں نہیں۔

 

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سر براہی میں 3 رکنی بنچ نے پاکپتن دربار اراضی کیس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، محکمہ اوقاف کی زمین سے متعلق کیس میں نواز شریف پہلی بار چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوئے، سماعت کے آغاز میں میاں ثاقب نثار نے کہا معاملہ مزید تحقیق کا ہے تو کیوں نہ جے آئی ٹی بنا دیں؟ جس پر نوازشریف نے کہا میرا جےآئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں آپ کچھ اور بنا دیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

متعلقہ خبر:پاکپتن دربار اراضی کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ میں پیشی

جسٹس آف پاکستان نے کہا دوتین بار وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہنے والے کو کلیئر ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کیوں نہ آپ کو منصف بنا دیں انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں، آپ خود انصاف کر دیں کہ کیا ہونا چاہیے، میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے قیمتی زمین تھی، میرا خیال ہے نچلے لیول پر گڑبڑ ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے صوفی بزرگ بابا فرید کے مزار کے گرد ونواح میں واقع سرکاری اراضی کی فروخت کے معاملے پر کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں