مجاہد کامران کے الزامات کو نیب نے بے بنیاد قرار دیدیا

لاہور (پبلک نیوز) سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کے نیب پر سنگین الزامات سے نیا پنڈورا بکس کھل گیا۔ نیب نے مجاہد کامران کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے اپنی گرفتاری کا سارا غصہ نیب پر نکال دیا۔ نیب پر سنگین الزامات عائد کر دیئے۔ انھوں نے کہا کہ نیب ملزمان پر بیوی بچوں کے سامنے تشدد کرتا ہے۔ ملزمان کی تذلیل کی جاتی ہے، واش رومز میں کیمرے ہیں۔ فواد حسین فواد سلطانی گواہ نہیں بنے۔ نیب سعد رفیق کے خلاف ثبوت چاہتا ہے اور شہباز شریف کو 13 نمبر سیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔

نیب نے مجاہد کامران کے الزامات پر شدید ردِ عمل دیا ہے۔ نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مجاہد کامران کی گرفتاری سے قبل ہی فواد حسن فواد جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے جا چکے تھے۔ ان کی فواد حسن فواد سے ملاقات ہوئی ہی نہیں۔ واش روم میں کیمروں کی تنصیب سمیت مجاہد کامران کے تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ نیب اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اساتذہ کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ مجاہد کامران کی اہلیہ سے ملاقات اور میڈیکل چیک اپ باقاعدگی سے کرایا جاتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں آخر مجاہد کامران کو سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی حالتِ زار کا کیسے علم ہوا؟ انہوں نے کیوں ان افراد کے متعلق بیان دے کر پارٹی بننے کی کوشش کی؟ الزامات تو لگا دیئے مگر ثبوت کہاں ہیں؟ کیا مجاہد کامران اپنی مبینہ کرپشن چھپانے اور نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں یا پھر وہ شہباز شریف سے دوستی نبھا رہے ہیں؟

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں