نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ، 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازی شہید

کرائسٹ چرچ (پبلک نیوز) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں شرپسندوں نے 2 مساجد میں فائرنگ کر دی۔ 40 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔

 

کرائسٹ چرچ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر چالیس منٹ پر نماز جمعہ کے دوران ایک مسلح شخص مسجد میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کرنے والا شخص لائیو ویڈیو بھی بناتا رہا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسجد میں 3 سو کے قریب افراد موجود تھے۔

 

عینی شاہد کے مطابق حملہ آور کا رنگ گورا، عمر تیس سے چالیس سال کے درمیان تھی اور اس نے آرمڈ فورس کی وردی پہن رکھی تھی۔ حملے سے کچھ دیر قبل حملہ آور نے سوشل میڈیا پر مسلم اور مہاجرین مخالف خیالات پر مبنی 87 پیجز پر مشتمل مینی فیسٹو کا لنک پوسٹ کیا تھا۔

 

نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا ایرڈرن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین دن ہے۔ بہت سے متاثرہ لوگ نیوزی لینڈ کے نہیں تھے۔ پھر بھی وہ ہمارے لوگ ہیں، جبکہ جنہوں نے دہشت گردی کی ان کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں۔

 

پولیس کمشنر نے بتایا کہ مساجد پر حملے میں ملوث چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں 3 مرد اور 1 خاتون شامل ہے۔ زیر حراست افراد میں سے ایک کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ حملہ آور کی گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی جس میں دھماکا خیز مواد نصب تھا۔

 

کرائسٹ چرچ سٹی کونسل کے مطابق شہر کی اہم عمارتوں اور مساجد  کو بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

حارث افضل  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں