وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

کوئٹہ(پبلک نیوز) بلوچستان نے اپنا حکمران چن لیا، جام کمال خان بلوچستان اسمبلی کے نئے قائد ایوان منتخب ہو گئے۔ سندھ میں بھی انتقال اقتدارکا مرحلہ مکمل۔ مراد علی شاہ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔


نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھا لیا، نو منتخب گورنر بلوچستان وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔ حلف برداری تقریب آج شام 5 بجے گورنرہاؤس کوئٹہ میں ہوئی۔ حلف برداری تقریب میں پارلیمینٹرینز، سیاسی و دیگر شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسران شرکت گی۔

واضع رہے کہ قائد ایوان کے انتخابات میں جام کمال نے 39ووٹ حاصل کیے جبکہ مد مقابل امید اور یونس عزیز زہری 20ووٹ حاصل کر سکے۔ جام کمال کو قائد ایوان کے انتخاب میں اتحادی جماعتوں پی ٹی آئی، اے این پی،ایچ ڈی پی اور جے ڈیبلیو پی کی حمایت حاصل رہی۔ جام کمال بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر ہونے کے ساتھ عام انتخابات میں صوبے میں سب سے زیادہ نشستیں پر جماعت حاصل کر کے سامنے آئے ہیں۔ جام کمال کے والد جام محمد یوسف اور ان کے دادا جام غلام قادر بھی وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔


جام کمال صوبائی اسمبلی کی نشست بی پی 50لسبیلہ سے رکن منتخب ہوئے تھے اس سے پہلے جام کمال 2013 کے عام انتخابات میں این اے 270 آواران کم لسبیلہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2013 سے 2018 کے دوران پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر مملکت رہے۔

 

اپریل 2018ء میں مسلم لیگ ن سے الگ ہو کر نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور پارٹی کے پہلے صدر بنے۔ جام کمال خان عالیانی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف کے صاحبزادے ہیں۔ جام کمال کا تعلق لسبیلہ کے شاہی خاندان سے ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ریاست لسبیلہ ایک آزاد ریاست تھا جس نے 1955ء میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔

عطاء سبحانی  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں