نشوا ہلاکت کیس کے ملزم ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت سے فرار

کراچی (پبلک نیوز) نشوا ہلاکت کیس کے ملزم ضمانت منسوخ ہونے پر فرار ہو گئے۔ دارالصحت ہسپتال مالکان ملزم عامر چشتی اور علی فرحان کی احاطہ عدالت سے فرار ہوئے، پولیس نے پکڑنے کی کوشش تک نہیں کی۔ نشوا کے والد نے کہا اس سے پہلے بھی ملزم ضمانت مسترد ہونے پر فرار ہو گئے تھے۔ نشوا کے والد نے ہسپتال ڈی سیل کرنے کے فیصلے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا۔

 

شہر قائد کی مقامی عدالت میں ننھی نشوا ہلاکت کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزموں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ کے کردار کا ایف آئی آر میں کہیں ذکر نہیں، ایف آئی آر میں صرف یہ درج ہے کہ غلط انجیکشن لگانے سے بچی کی ہلاکت ہوئی۔ ایف آئی آر کے بعد بیانات کے ذریعے واقعے کو کہیں اور لے جانے کی کوشش کی گئی۔

 

ملزموں کے وکیل نے کہا خطا کا کیس تو بن سکتا تھا لیکن تفتیشی افسر نے 302 کا مقدمہ بھی درج کردیا۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ بچی کی حالت خراب ہونے پر آپ نے بچی کو ڈسچارج کیوں نہیں کیا؟ بچی کے والد عدالت میں آبدیدہ ہوگئے، بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ کو تمام صورتحال کا علم تھا۔ بچی کو دوسرے ہسپتال شفٹ کرنا تھا لیکن ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی ہسٹری لکھ کر نہیں دی، جو غلط انجیکشن لگایا اس کو لکھ کر دینے سے انکار کیا۔ بچی تڑپ رہی تھی لیکن ہسپتال کے چیئرمین نہ ہونے کے باعث ڈسچارج نہیں کیا گیا۔

 

عدالت نے وکیل کے دلائل اور بچی کے والد کا مؤقف سننے کے بعد عامر چشتی اور علی فرحان کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی۔ ضمانت منسوخ ہونے پر دونوں ملزم عدالت سے فرار ہو گئے۔

 

کیس کی سماعت کے بعد نشویٰ کے والد کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ضمانت مسترد ہونے پر ملزم فرار ہوئے۔ بچی کے والد نے ہسپتال ڈی سیل کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا بھی اعلان کیا۔

 

واضح رہے کہ 9 ماہ کی نشویٰ کو 6 اپریل کو گلستان جوہر کے نجی ہسپتال دارالصحت میں داخل کیا گیا جہاں غلط انجکشن لگنے سے وہ دماغی طور پر مفلوج ہوگئی تھی اور اسٹیڈیم روڈ پر واقع اسپتال میں 22 اپریل کو نشویٰ دم توڑ گئی تھی۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں