محکمہ مال افسران کی ملی بھگت، سرکاری باردانہ کسانوں کے بجائے بیوپاریوں کو ملنے لگا

عارف والا (محمد عظم) محکمہ مال کی جانب سے گندم کی کاشت میں بوگس خسرہ گرداوری ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس سے گندم کی فروخت کے لیے سرکاری باردانہ عام کسانوں کی بجائے مڈل مینوں کو دیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عارف والا میں محکمہ مال کے افسران کی جانب سے بوگس خسرہ گرداوری ڈال کر سرکاری باردانہ عام کسانوں کی بجائے بیوپاریوں کو دیا جانے لگا ہے جس سے گندم کے کاشتکاروں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔

دوسری جانب قرضوں کے بوجھ تلے دبے کسان اپنی گندم سرکاری مراکز کی بجائے پرائیویٹ منڈیوں میں سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ مال کی اس غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف کسان احتجاج بھی کر چکے ہیں مگر افسران بالا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

 کسانوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی حالیہ طوفانی بارشوں سے ان کی پکہ پکائی گندم کا غیر معمولی نقصان ہو چکا ہے۔ اب رہی سہی کسر سرکاری باردانہ کی عدم فراہمی سے ہونے والے نقصان نے نکال دی ہے۔ کسانوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پبلک نیوز کے مطابق سندھ کے بعد پنجاب میں بھی گندم خریداری میں خوردبرد کا دھندا جاری ہے۔ سپیشل برانچ کی نشاندہی پر اسسٹنٹ کمشنر نے چھاپہ مار کر 570 بوری باردانہ برآمد کرلیا۔ گندم ظاہر پیر اور ججہ عباسیاں میں دو بروکرز کے اڈوں پر چھپائی گئی تھی۔

باردانہ پاسکو کی جانب سے زمینداروں میں تقسیم کیا جانا تھا لیکن بروکرز اور بااثر افراد میں تقسیم کردیا گیا۔ چھاپہ کے دوران 170 بوری گندم جبکہ 400 خالی باردانہ بھی برآمد کیا گیا۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں