قلات میں سردیاں شروع، گیس غائب، لکڑی سے جلنے والے چولھے لوٹ آئے

قلات میں سوئی گیس کی بندش کے بعد سردی سے بچنے کے لیے لوگوں نے صدیوں پرانے لکڑی سے جلنے والے چولہوں کا استعمال شروع کر دیا ہے، جبکہ لوہے  سے بنائے گئے چولہوں کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے غریب عوام کی قوت خرید سے بھی باہر ہو چکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قلات میں سردیاں شروع ہو تے ہی سوئی گیس مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہیں۔ سوئی گیس کی پریشانی سے تنگ آکر قلات کے شہریوں نے صدیوں پرانے لکڑی سے جلنے والے چولہوں کا  دوبارہ استعمال کر نا شروع کر دیا ہےجبکہ چولہے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے غریب عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں۔

سردی کی وجہ سے  گیس بالکل بند ہے۔ 2 ہزار کا ہم چولہا  خریدتے ہیں اور لکڑی کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس سے کافی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں انہیں سردی لگتی ہیں مگر مہنگائی بہت زیادہ ہے اسٹو بھی مہنگے ہیں اور لکڑی بھی مہنگے ہیں غریب کرے تو کیا کرے۔

قلات میں گیس پریشرمیں کمی کے مسئلے سے تنگ آکر قلات شہریوں نے سردی سے بچنے کے لیے  لکڑی سے جلنے والے اسٹوو کا دوبارہ استعمال شروع کیا ہیں مگر سوختی لکڑی اور اسٹوو کی قیمتیں مہنگے ہونے کی وجہ سے شہری پریشان ہیں۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں