نیٹو سمٹ کا پہلا روز، ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر میں لفظی جنگ

برسلز(پبلک نیوز): نیٹو سمٹ میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے سربراہان مملکت برسلزپہنچ گئے۔ نیٹو اجلاس کے پہلے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر امریکہ کی نسبت کم دفاعی بجٹ دینے کا الزام لگایا۔ جرمنی کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا جرمنی پرروس کا مکمل قبضہ ہے۔ ردِ عمل میں انگیلا مرکل نے امریکی صدر کو کرارا جواب دیا۔
برسلز میں نیٹو کا سربراہی اجلاس کا اہتمام ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ نیٹو کے دفاعی اخراجات میں 4 فی صد یعنی دوگنا خرچ کریں۔ امریکی صدر نیٹو اجلاس سے قبل جرمنی کے لیے پہلے خوب زہر اُگلا اور پھر میٹھی چھری بن گئے۔

امریکی صدر کی جانب سے نیٹو دفاعی بجٹ کی مساوی تقسیم کے مسئلے پر تنقید کا جرمن چانسلر نے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتا ہے۔ افواج کی فراہمی کے لحاظ سے نیٹو میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ جرمنی کی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ نیٹو کے استعمال کیلئے پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ افغانستان کے حوالے سے بھی ہم اپنے موقف اور ذمہ داری پر قائم ہیں۔
ٹرمپ نے جرمنی اور روس کے درمیان بحیرہ بالٹک کی گیس پائپ لائن ڈیل پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ جرمنی ماسکو سے ڈیلز کر کے اسے اربوں ڈالر کی ادائیگی کر رہا ہے، یہ عمل غیر موزوں ہے کہ امریکا، روس کے خلاف یورپی دفاع کے لیے خرچ کرے اور بڑا یورپی اقتصادی ملک جرمنی، ماسکو کے ساتھ گیس ڈیل کی حمایت میں کھڑا رہے۔ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں سے متعلق اپنے پہلے بیان کو دوہراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال نیٹو کو اتحادی ممالک کی جانب سے 40 ارب ڈالر دیے گئے جو کہ ناکافی ہیں، امریکا اس سے کئی زیادہ ادا کرتا آیا ہے۔
اجلاس میں آمنا سامنا ہوا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جرمن چانسر کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ نیٹو اجلاس کے دوران امریکی صدر اتحادیوں پر جہاں ایک طرف برہم نظر آئے، وہیں فرانسیسی صدر سے راضی تھے۔ ٹرمپ نے اپنے اور میکخواں کے رشتے کو بہترین قرار دیا اور بطورِ صدر ان کی خدمات کو سراہا، ساتھ ہی پیشن گوئی بھی کر دی کہ امینویل میکخواں کی متنازع اصلاحات کامیاب ہوں گی۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں