ازخودنوٹس کا اختیار وہاں استعمال ہوگا جہاں دوسرا حل موجود نہ ہو: نامزد چیف جسٹس

اسلام آباد (پبلک نیوز) نامزد چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ از خود نوٹس کا اختیار وہاں استعمال ہوگا جہاں دوسرا حل موجود نہ ہو۔ بطور منصف اعلیٰ انصاف کی فراہمی  میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس  ثاقب نثارکے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ غیر ضروری التواء کو روکنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا۔ عدالتوں میں 19 لاکھ زیر التواء مقدمات کا قرض اتاروں گا۔

نامزد چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جمہوریت کی پائیداری کے لیے سویلین بالا دستی اور احتساب لازم و ملزوم ہے۔ ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جلد فیصلے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کوشش کریں گے سول عدالتوں میں بھی جلد فیصلہ ہوں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا   کہ فوج اور حساس اداروں کا سویلین معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ  نے کہا کہ ریاست کے امور چلانا  سنجیدہ معاملہ ہے۔ مقننہ کا کام صرف قانون سازی ہے ترقیاتی فنڈز دینا یا صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کرنا نہیں۔ صدر پاکستان کی سربراہی میں چارٹر آف گورننس پر بحث کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح میں بھی ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور ان کی طرح ملک کا قرضہ اتارنا چاہتا ہوں۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں