شہنشاہ قوالی ،غزل گائیک اور موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کی 22ویں برسی

 

لاہور (پبلک نیوز) شہنشاہ قوالی، دم مست قلندر سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے اور کلاسیکی موسیقی کو نئی جہتوں سے متعارف کروانے والے استاد نصرت فتح علی خان کی آج 22ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

 

13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے شہنشاہ قوالی نصرت فتح علی خان  کو 'دم مست قلندرمست مست' نے شناخت عطا کی اور ان کی شہرت پاکستان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گئی۔

 

نصرت فتح علی خان نے بحثیت قوال 125 آڈیو البم ریلیز کیے جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ان البمز میں 'دم مست قلندر مست'، 'علی مولا علی'، 'یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے'، 'میرا پیا گھر آیا'، 'اللہ ہو اللہ ہو'، 'کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا' سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔

 

نصرت فتح علی خاں کو گیت، غزل، قوالی، کلاسیکل، نیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ساز و آواز سے نصرت کی روح اور دل کی ہم آہنگی ہی کے باعث سننے والے ان کے کلام میں کھو جایا کرتے ہیں۔ نصرت فتح علی خان نے عارفانہ کلام ،گیتوں، غزلوں اور قوالیوں کا اتنا بڑا خزانہ چھوڑا ہے کہ یہ موسیقی میں روح کی غذا تلاش کرنے والوں کو ایک طویل عرصے تک سیراب کرتا رہے گا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں