انتظار اور نقیب اللہ کےقتل کو ایک سال بیت گیا، لواحقین انصاف کے منتظر

کراچی(تنویر منیر) انتظار اور نقیب اللہ کے قتل کو ایک سال بیت گیا، لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں، اعلیٰ عدلیہ اور دیگر کے نوٹس کے باوجود مقدمات میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔

 

13جنوری 2018ء کو کراچی میں دو اہم واقعات رونما ہوئے جس میں ڈیفنس کے علاقے میں پیش آنے والے انتظار کا قتل اور شاہ لطیف میں نقیب اللہ محسود کا قتل تھا، ان دونوں مقدمات میں پہلے تو پولیس کے مبینہ مقابلے کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سچ سامنے آتا گیا انتظار اور نقیب اللہ کوئی جرائم پیشہ افراد نہیں بلکہ پولیس گردی کا نشانہ بننے والے معصوم شہری تھے۔

 

انتظار جوکہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا انتظار کے کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی بار بار تفتیشی افسر کو بھی تبدیل کیا گیا بہت سے ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن مرکزی ملزم طارق رحیم کافی عرصے تک مفرور رہا اور پھر سپریم کورٹ اسلام آباد میں پیش ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے طارق رحیم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، انسپکٹر طارق رحیم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اس سے قبل اس کیس میں چھ پولیس اہلکار گرفتار ہیں۔

 

13جنوری کو ہی ایک اور اہم واقعہ رونما ہوا تھا جو کہ نقیب اللہ کا قتل تھا۔ ابتدائی طور پر انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کی جانب سے نقیب اللہ کو خطرناک دہشت گرد بتایا گیا جوکہ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ نقیب اللہ تو ایک معصوم شہری تھا جو کہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں دکان چلاتا تھا۔

 

نقیب اللہ کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیئے کبھی احتجاج تو کبھی اعلیٰ عدلیہ کے دروازوں پر دستک دی راؤ انوار کو پہلے معطلی اور پھر جے آئی ٹی کا سامنا کرنا پڑا مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا لیکن لواحقین انصاف کے حصول کے لیئے اب بھی پر اُمید ہیں۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں