کمسن زینب سے زیادتی، قتل کی لرزہ خیز واردات کو ایک برس بیت گیا

لاہور (پبلک نیوز) قصور میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کی گئی ننھی زینب کے المناک واقعہ کو ایک برس بیت گیا۔ 10 جنوری 2018 کو درندہ صفت ملزم عمران کے قتل کے بعد قصور کی ننھی زینب کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

 

قصور کی کمسن زینب سے زیادتی اور قتل کی لرزہ خیز واردات کو ایک برس مکمل ہو گیا۔ قصور کی 7 سالہ ننھی زینب کو 5 جنوری کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جس کی بعد زینب کی لاش قصور کی اعظم روڈ سے کچرے کے ڈھیر پر پڑی ملی۔

 

زیادتی وقتل کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب زینب کے والدین عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔ زیادتی، قتل اور درندگی کے بھیانک واقعے پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ قصور شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے نیٹس۔ قصور کے مقامی قبرستان میں ننھی زینب کو جب آہوں اورسسکیوں میں سپردخاک کیا گیا تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

عدالتوں نے قصور کی ننھی زینب اور کئی معصوم بچیوں کے قاتل عمران کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت کی سزا سنائی۔ مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح پھانسی دی گئی۔

 

مجرم عمران کو پھانسی کی سزا کو معمولی قرار دیتے ہوئے زینب کے والد نے کہا تھا کہ مجرم عمران کو سرعام پھانسی دی جاتی تاکہ مجرم عبرت کا نشان بن جاتا۔

حارث افضل  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں