معیشت ڈوب گئی ہے، آنے والا بجٹ قاتل بجٹ ہوگا: حمزہ شہباز

لاہور (پبلک نیوز) اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر نیب کوئی ثبوت لے آئے تو عہدے سے استعفی دوں گا قوم سے معافی مانگوں گا سیاست کو خیر باد کہہ کر سیاست چھوڑ دوں گا۔ اگر نیب میرے خلاف ثبوت ثابت نہ کر سکی تو چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کوٹ سے درخواست کروں گا۔ لارجر بنچ بنایا جائے نیب چئیرمین نے انٹرویو دیا اس کا نوٹس لیا جائے۔

 

تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بریگیڈیر اسد منیر نے نیب کے ڈر سے خود کشی کر لی اس لاش کے ساتھ انصاف کون کرے گا۔ چنبہ ہاؤس میں ایک شخص کو دل کا دورہ پڑا اس یتیم بچوں کو حساب کون دے گا۔ جیلوں سے نہیں ڈرتا چیف جسٹس نے کہا جھوٹی گواہی پر حساب لوں گا۔ جھوٹا مقدمہ بدنیتی پر بنانا اور چیئرمین نیب کہتا ہے کہ حمزہ کو اندر کرواؤں گا۔ حکومت گرانا نہیں چاہتے پرویز خٹک کی صحت اور وزراء کے خلاف کوئی احتساب نہیں کرنا چاہتا۔

 

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ فوجی افسروں کو سزائیں دی گئیں اگر آرمی کا ادارہ سزا دیتا ہے تو سپریم کورٹ کے سینئر جج کے خلاف کارروائی بھی عمل میں اتی ہے پھر نیب چئیرمین مقدس گائے ہیں کیا؟ جس کی عزت چاہے اچھالے جس کو چاہے گالیاں دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نیب چئیرمین عہدے کے پیچھے نہ چھپیں بروز قیامت تمہارا گریبان پکڑو گا۔ عدلیہ کا احترام کرتا ہوں لیکن تحفظات اس وقت پیدا ہوئے جب نیا بنچ بنایا گیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب کوئی ثبوت لے آئے تو عہدے سے استعفی دوں گا قوم سے معافی مانگوں گا سیاست کو خیر باد کہہ کر سیاست چھوڑ دوں گا۔ اگر نیب میرے خلاف ثبوت ثابت نہ کر سکی تو چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کوٹ سے درخواست کروں گا۔ لارجر بنچ بنایا جائے نیب چئیرمین نے انٹرویو دیا اس کا نوٹس لیا جائے۔ چیرمین نیب عداوت رکھتا ہے اسے کٹہرے میں لاکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا ادارہ آدم خور بن چکا ہے کوئی خود کشی تو کسی استاد کو ہتکھڑی لگائی جاتی ہے۔ نیب کا احتساب نہ کیا گیا تو ہر کوئی کہے گا ملک میں جنگل کا قانون ہے۔ نیب گرفتار پہلے اور مقدمہ بعد میں کرتا ہے جو سپریم کورٹ کہہ رہا ہے۔ نیب کو کتنی قربانیاں درکار ہے چادر چار دیواری پامال کرے۔ وفاقی وزراء کہتے ہیں بیوروکریٹس نیب کے ڈر سے کام نہیں کرتے۔ اس کو ٹیسٹ کیس بنا کر بے لاگ تحقیقات کی جائیں۔ ہاتھ باندھ کر عدالت جاؤں گا صحافی اور نیب چئیرمین کو بلایا جائے تاکہ جھوٹ اور سچ کا فیصلہ ہو سکے۔

 

حمزہ شہباز  کا کہنا تھا کہ میرا مسئلہ نہیں نیب کو بھگت چکا ہوں لیکن ملکی معیشت ڈوب رہی ہے۔ نیب اور نیازی شریف خاندان کے بغض میں جل رہا ہے لیکن عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔ بھارت کہہ رہا ہے معیشت زمین بوس ہو رہی ہے۔ پاکستان کو سبق سکھایا جائے آنے والا قاتل بجٹ ہوگا۔ حفیظ شیخ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے جب کشتی بھنور کے ڈوب جاتی ہے تو ملاح اسے بچاتا ہے لیکن یہ کچھ نہیں کر رہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ وزارت عظمی پر براجمان جھوٹے شخص نے شہباز شریف پر الزام لگایا تو دس ارب روپے ہرجانے کا دعوی کیا تو بھاگ گیا۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا فائدہ حاصل کرو اس شخص نے ایک لاکھ روپے ٹیکس جمع کروایا۔ خوفزدہ ہوں مہنگائی کے بعد طوفان کے بعد غریب دو وقت کی روٹی دوائیاں بھی پوری نہ کر سکے گا۔

 

حمزہ شہباز  کا کہنا تھا کہ فوج آنکھ کا تارا ہے جو ملک کی حفاظت کر رہا ہے فاٹا میں کلئیرنس ملنی باقی ہے۔ تاریخ میں نیب کا نام معیشت کا بیڑا غرق کرنے میں سرفہرست ہوگا۔ اگر اپوزیشن کو گرفتار کرنے سے معیشت درست ہوتی ہے تو کرلیں۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں