موجودہ حکومت نے 10 ماہ میں عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں: شہباز شریف

اسلام آباد(پبلک نیوز) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بتایا جائے نیلم جہلم بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ آٹھ سو ملین ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک کیسے پہنچا؟ معیشت کو 3.3 سے 5.8 فیصد پر ہم لائے، ہم چھ فیصد شرح پر لے جانے والے تھے۔

 

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 2013ء میں عوام نے ن لیگ کی حکومت کو منتخب کیا، حکومت میں آتے ہی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، بھاشا ڈیم کے لیے کسی ادارے سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی، دھوکے کے ساتھ بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی، جذبات میں آکر کہا کہ 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے،شہباز شریف، مشرف نے بھاشا ڈیم شروع کرنے کا ڈرامہ کیا۔ اپوزیشن کو ڈی چوک سے اُٹھنے کے لیے درخواست کی گئی تھی، اپوزیشن کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا تھا۔

 

ن لیگی رہنماء شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں 7 ماہ میں اپوزیشن نے معیشت کو تباہ کر دیا، چین نے نواز شریف کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کا آغاز کیا، سی پیک کے تحت پہلی بار پاکستان میں سولر پراجیکٹ لگے، چین نے پاکستان کا اس وقت ساتھ دیا جب کوئی مدد کو تیار نہیں تھا، تحریک انصاف نے اُس وقت کہاکہ بہت مہنگے قرض لیے جا رہے ہیں، وہ قرض نہیں تھے چین پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا تھا،11 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کوئی رام کہانی نہیں، مسلح افواج نے دہشت گردی سے ملک کو بچانے میں عظیم قربانیاں دیں، اداروں نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور انہیں ختم کیا۔

 

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جو بھی حکومت آئی وہ 5 سال میں سب کچھ ٹھیک نہیں کر سکی، بھارت نے اگر پھر جارحیت کی تو ہم آنکھیں نوچ کر پاؤں تلے روند دیں گے، ہماری قوم اور فوج میں بھارت کو جواب دینے کی ہمت ہے، حکومت کو چارٹر آف اکانومی کی پیشکش کی، حکومتی ارکان چاہیں تو چارٹر آف اکانومی پر بات کرسکتے ہیں، ایوان میں وقت ضائع کرنے کے بجائے مثبت استعمال کریں، چارٹر آف اکانومی پر بات چیت کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ غریب کہاں جائے، کہاں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈے، کنٹینر والوں نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، مہنگائی کر دی، معیشت کی جو حالت ہے ایسی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

ڈالر اور سب چیزیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں، لاکھوں لوگ بے روز گار ہو چکے، کسان پس کر رہ گیا ہے، موجودہ حکومت نے 10 ماہ میں عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں، آدھی رات کو خطاب کر کے کہا گیا کسی کو نہیں چھوڑوں گا، خطاب سن کر کہا کوئی بات نہیں روزانہ سنتے ہیں، کوئی نہیں بات نہیں۔ این آر او کا بھی ذکر سننے میں آیا، وزیراعظم کو ریلیف دینے کو اختیار نہیں، قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان صاحب بتا دیں کس نے این آور مانگا ہے؟ قوم کو نہیں بتانا چاہتے تو جناب اسپیکر آپ کو ہی بتا دیں، مجھ پر ملتان کمپنی اور 20 ارب کی آفر کا بھی الزام لگایا گیا۔ عدالت تاریخ دیتی رہی اور خود پیش نہیں ہوتے رہے، بات صرف انڈے، مرغی اور کٹے پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔

 

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ آج بھی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کا پیغام دیتا ہوں، اگر وہ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے، موجودہ وقت عوام کی خوشیاں چھیننے کے لیے آیا ہے، عوام دشمن بجٹ کو رد کرتے ہیں، بجٹ ظلم کی تلوار،عام آدمی کو کاٹنے کے لیے آیا ہے، عوام دوست بجٹ میں 5 چیزیں ہوتی ہیں، پہلی چیز نوجوانوں کو نوکریاں دیتے، جی ڈی پی اور کاروبار کو بڑھانے کے لیے بجٹ ہوتا، بجٹ آئی ایم ایف نے خود بنایا ہے، آئی ایم ایف کو کیا پتا پاکستان میں غریب خوش ہے یا نہیں، موجودہ بجٹ عوام کی امیدوں کو قتل کرنے آیا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ کنٹینر پر کھڑا ہو کر کہا گیا وزیراعظم بنا تو ریونیو کو 8 ہزار ارب پر لے جاؤں گا،4 ہزار کا ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے تو ساڑھے5 ہزار کا ٹارگٹ کیسے پورا کریں گے، موجودہ بجٹ میں 70فیصد غیر مستقیم ٹیکسز ہیں، حکومت کو ہمارے تیار شدہ منصوبوں پر تختیاں لگانے پر گولڈ میڈل دینا چاہتا ہوں، تعلیم اور علاج کے معاملے میں تحریک انصاف والے اپنے آپ کو چیمپئن سمجھتے تھے، قوم کو دن رات بتایا جاتا تھا کہ کے پی کے میں تعلیم اور علاج کا انقلاب آ گیا ہے، جنگلا بس کہنے والوں نے پشاور میں بی آر ٹی شروع کر دی،38 ارب کا منصوبہ 1کھرب 100ارب تک پہنچ گیا۔ بی آرٹی منصوبے میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہے۔


لوگوں کی جیبوں سے زبردستی پیسہ نکالا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں کاروباری حضرات پریشان ہیں۔10 ماہ میں 5 ہزار ارب لے لیے، کمیشن جب بھی ہمیں بلائے گا ہم جائیں گے، بلا امتیاز احتساب کرنا ہے تو ایک ہی طرح سے کرنا ہو گا، ہم نے کئی سو ارب کی سبسڈی دی اور انہوں نے بند کر دی۔ صوبوں کے فنڈ بند کریں گے تو ملک آگے نہیں بڑھے گا، ہسپتال والے کہتے ہیں اب مفت دوائی ختم ہو گئی، بجٹ عوام دشمن، واپس لیا جائے، کم از کم تنخواہ 20 ہزار رکھی جائے، عمران خان آئیں اپوزیشن بھی انہیں موقع دے گی۔ شہباز شریف نے کم از کم تنخواہ 20ہزار رکھنے کا مطالبہ کر دیا۔

 

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو 31 مئی 2018 کی سطح پر واپس لایا جائے، گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، تعلیمی وظائف کو ن لیگ کی دور حکومت کے مطابق کیا جائے۔ ہسپتالوں میں ملنے والے مفت علاج کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ دوبارہ عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے۔ حکومت احتساب کو سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، عوام کے ساتھ بہت زیادتیاں ہو گئیں، عوام دشمن بجٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔ بجٹ میں ترمیم نہ ہوئی تو حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں