اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بلا مقابلہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین منتخب

اسلام آباد(پبلک نیوز) خدا خدا کر کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بن گئی، پہلے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے، رکن کمیٹی نورعالم خان، شریف خاندان سے متعلق آڈٹ پیرا آئے تو شہبازشریف کمیٹی کی سربراہی کسی اور کے سپرد کر دیں۔

 

قائمہ کمیٹیوں کا معاملہ کھٹائی میں پڑے رہنے کے بعد آخرکار حل ہو گیا، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پہلا اجلاس قومی اسمبلی کی کمیٹی روم نمبر دو میں ہوا۔ جس میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف سمیت تیس ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں شیخ روحیل اصغر نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا نام چئیرمین کمیٹی کے لئے پیش کیا، جسے متفقہ طورپر منظور کر لیا گیا۔

 

شہباز شریف نے کمیٹی کی سربراہی سنبھالی تو اراکین نے تعریفیں کیں۔ تو پی اے سی کے رکن اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نورعالم خان نے کہا کہ میثاق جمہوریت ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہوا۔ شہبازشریف کو چاہیے شریف خاندان سے متعلق آڈٹ پیراز آئیں تو خود ہی اٹھ جائیں اور کمیٹی کی سربراہی کسی اور کے سپرد کردیں۔

 

نور عالم خان کی بات سن کر ایک طرف تو اپوزیشن اراکین ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے تو دوسری جانب حکومتی اراکین کے منہ بھی کھلے کے کھلے رہ گئے۔ شہباز شریف نے چائے کا گھونٹ لیا اور ایک لمحے چپ رہنے کے بعد بولے کہ وہ کسی کے کہنے سے قبل ہی ایسا کریں گے۔

 

نئے چیئرمین شہباز شریف نے سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خورشید شاہ کو کمیٹی کو بھرپور طریقے سے چلانے پر مبارکباد بھی دی۔ کمیٹی اراکین نے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد دیتے ہوئے سیاست سے بالاتر ہو کر احتسابی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔


کمیٹی کے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کی رہنماء شیریں رحمان نے راستے میں پیپلز پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ نور عالم خان کو روکا اور کہا کہ آپ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن نور عالم خان نے شیریں رحمان کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے سینیٹ کے قائد ایوان کے دفتر چلے گئے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں