رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف کی جوڈیشل کمپلیکس میں ملاقات

لاہور(شاکر محمود اعوان) رانا ثناء اللہ کی انسداد منشیات عدالت میں پیشی ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف رانا ثناء اللہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے۔ پولیس نے شہباز شریف کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہی روک لیا۔ شہباز شریف پیدل چلتے ہوئے کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔

 

تفصیلات کے مطابق انسداد منشیات لاہور کی خصوصی عدالت نے منشیات بر آمدگی کیس میں رانا نثاء اللہ اور دیگر ملزموں کے جوڈیشل ریمانڈ میں گیارہ روز کی توسیع کر دی ہے۔ رانا ثناء اللہ اور شریک ملزموں کو سخت سکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزموں کا چالان مکمل کر لیا ہے۔ کیمیکل ایگزیمینیشن رپورٹ کا انتظار ہے۔  جبکہ دیگر دستاویزات مکمل کرنے ہیں۔ 


رانا ثناء اللہ کے وکلاء نے کہا کہ یہ کس قسم کا چالان ہے جس میں دستاویزات نا مکمل ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت میں بیان دیا میں دل کا مریض ہوں مجھے خاص ٹریٹمنٹ اور کھانے کی ضرورت ہے۔ تفتیشی نے نہ تو میری کوئی ویڈیو دکھائی اور نہ ہی کوئی تفتیش کی ہے۔ چالان میں اپنے پاس سے لکھ دیا ہے۔ عدالت نے ملزموں کے جوڈیشل ریمانڈ میں گیارہ روزہ توسیع کرتے ہوئے 9 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدائت کر دی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پیدل چل کر رانا ثناء اللہ سے ملنے عدالت پہنچے۔ شہباز شریف نے رانا ثناءاللہ کا اٹھ کر اسقبال کیا۔ شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کو گلے لگایا اور رانا ثناء اللہ کی خیریت دریافت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ رانا ثناء اللہ ہماری پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ ان سے ملاقات کرنا میرا بنیادی حق ہے۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے قائد کو روکے جانے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم اور بربریت ہے۔ اوپن کورٹ کی سماعت میں عدالت کے دروازے کسی کے لئے بند نہیں ہوتے۔



رانا ثناء اللہ کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے۔ جوڈیشل کمپلیکس کے راستے کنٹینرز کھڑے کر کے بند کر دئیے گئے۔ جس سے سائلوں اور راہگیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں