ساہیوال واقعہ: اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کمیٹی بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ قطعاً سیاست نہیں کرنا چاہتے، صرف یہ پوچھتے ہیں پنجاب حکومت نے چھ قلابازیاں کیسے کھائیں۔ ساری دنیا نے دیکھا کس طرح بچوں کے سامنے والدین کو مارا گیا۔ دوطرفہ فائرنگ کا کہا گیا وہ بھی غلط ثابت ہوا۔ ڈرائیور کو دہشتگرد کہا گیا اس کا بھائی ڈولفن پولیس کا ملازم نکلا۔

 

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا ساہیوال کے اندوہناک واقعہ پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہر آنکھ اشکبار ہے، پوری قوم سوگوار ہے۔ لاہور سے یہ خاندان گیا، ساہیوال کے قریب ان کی گاڑی کو روکا گیا، اندھا دھند فائرنگ کر کے بچوں کے والدین اور معصوم بہن کو مار دیا گیا۔ پانچ اور سات سالہ بچیاں اور بھائی، تینوں کو گاڑی سے نکالا گیا۔ سفاکانہ کارروائی کے بعد پنجاب حکومت نے بیانات بدلتے ہوئے نیا رنگ دینے کی کوشش کی۔ پہلے کہا دہشت گرد تھے، پھر کہا نہیں وہ ڈرائیور دہشت گرد تھا، پھر کہا شیشوں پر سیاہ کاغذ تھے، پھر پوری دنیا نے دیکھا بربریت اور ظلم کا پہاڑ توڑا گیا۔ کیسے گولیاں برسائی گئیں، کہا گیا دوسری طرف سے فائرنگ ہوئی، دیکھتی آنکھ نے دیکھا کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ ڈرائیور کو دہشت گرد کہا گیا، مگر سامنے آیا کہ اس کا بھائی خود پولیس فورس میں ملازم ہے۔

 

 

یقینا حقائق سامنے آئیں گے، حالیہ دور میں اس ظلم کی کوئی مثال نہیں۔ خود وزیراعظم نے چوبیس گھنٹے بعد ایک ٹویٹ کی۔ کوئی سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتا صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایسے واقعات پر عمران خان صاحب کس طریقے سے سیاست کرتے تھے۔ ماڈل ٹاؤن واقعہ ہو یا قصور کی زینب کا واقعہ، کس طرح سیاست کی گئی۔ قطعاً سیاست نہیں کرنا چاہتے، صرف یہ پوچھتے ہیں پنجاب حکومت نے چھ قلابازیاں کیسے کھائیں۔ عمران خان صاحب کہتے ہیں وہ پوری طرح وزیراعلیٰ کے پیچھے ہیں۔ افسروں کی تعیناتیاں وزیراعظم ہاؤس سے کی جاتی رہی ہیں۔ بزدار صاحب کو ضرور جواب دینا ہے مگر وزیراعظم کو قوم کے سامنے جواب دینا ہے۔

 

جب گاڑی رک گئی تو جا کر تلاشی کیوں نہ لی گئی۔ سی ٹی ڈی اہلکار یونیفارم میں نہیں تھے۔ معصوم بچے نے سارا پول کھو دیا۔ بچے نے کہا میرے والد نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہمیں مت مارو پیسے لے لو۔ ان تینوں بچوں کی حفاظت 22 کروڑ عوام کریں گے۔ عوام حقائق جاننا چاہتے ہیں اصل محرکات تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ آج ایوان کے اندر معمول کی کارروائی معطل کر کے اس واقعہ پر سب کو مؤقف پیش کرنے دیا جائے۔

 

ہم دھرنے نہیں دیں گے مگر حقائق بتانے تک انہیں بیٹھنے بھی نہیں دیں گے۔ عوام اس معاملے کے حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ آج ہاؤس کی نوٹیفائڈ کارروائی معطل کر کے اس ایشو پر بات کی جائے۔ آج سوشل میڈیا پر یہ سٹکر لگائے گئے کہ ہم بچے ہیں ہمیں نہ مارو۔ اس معاملے پر ہاؤس کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ شادی پر جانے والے خاندان کو سفاکانہ کاروائی میں مار دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے بار بار پینترے بدلے، نیا نیا رنگ دینے کی کوشش کی۔

 

ساری دنیا نے دیکھا کس طرح بچوں کے سامنے والدین کو مارا گیا۔ دوطرفہ فائرنگ کا کہا گیا وہ بھی غلط ثابت ہوا۔ ڈرائیور کو دہشتگرد کہا گیا اس کا بھائی ڈولفن پولیس کا ملازم نکلا۔ جب ایسی بھرتیاں ہوتی ہیں پورے خاندان کا بیک گراونڈ چیک کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم چوبیس گھنٹے بعد ٹویٹ کے ذریعہ بولے، اس طرح کے واقعات پر عمران خان کیسے کیسے سیاست کرتے رہے۔ کے پی کے میں ہوئے واقعات پر بھی پنجاب نے مدد کی۔ آئی جی سمیت سب کی تقرری وزیر اعظم کے واٹس اپ پر ہوتی ہے۔ وزیر اعلی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کو بھی جواب دینا ہے۔

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں