اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد تیار، نئے چیئرمین سینیٹ کون ہونگے؟

 

اسلام آباد(پبلک نیوز) سینیٹر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک کا  تحریک پر دستخط کرنے سے انکار، ن لیگی سینیٹرز صابر شاہ اور مصدق ملک کے درمیان تلخ کلامی، چیئرمین سینیٹ کے خلاف  38 دستخطوں کے ساتھ عدم اعتماد کی قرارداد جمع، سینیٹ کا اجلاس جلد بلانے کےلئے ریکوزیشن بھی جمع۔

 

 

چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس سینیٹر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ شیری رحمان نے پوچھا رحمان ملک صاحب آپ قرارداد پر دستخط کیوں نہیں کر رہے؟ رحمان ملک بولے آج سب کو بلا تو لیا مگر مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔

 

شیری رحمان نے کہا ملک صاحب یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔ جو آپ کو ماننا پڑے گا۔ ہم نے اے پی سی اور رہبر کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کرنا ہے۔ تحریک کے لیے ہر ایک سینیٹر سے مشاورت نہیں کی جا سکتی۔ اجلاس کے دوران  تلخ کلامی بڑھی تو سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر بیچ میں آئے اور معاملہ ختم کرایا۔ جبکہ ن لیگی سینیٹرز صابر شاہ اور مصدق ملک کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوئی۔

 

اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اڑتیس سینیٹرز کے دستخطوں کے ساتھ سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادی۔ قرارداد پر اڑتیس اراکین کے دستخط ہیں۔ مگر اجلاس میں چالیس اراکین شریک تھے۔ سینیٹر رحمان ملک نے قرارداد پر دستخط نہیں کئے، ذرائع بتاتے ہیں کہ دستخط نہ کرنے والا دوسرا نام صابر شاہ کا ہوسکتا ہے۔

 

 

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایوان کے ممبران کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اعتماد نہیں رکھتے۔

 

سینیٹرز نے قرارداد سیکرٹری سینیٹ کے حوالے کی اور سینیٹ کا اجلاس جلد بلانے کےلئے ریکوزیشن بھی جمع کرادی۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کا منصب مسلم لیگ ن کو دینے پر اتفاق کیا ہے۔ رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس 11 جولائی کو ہوگا۔ اور اسی روز نئے چئیرمین سینیٹ کے امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں