پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ائیر انڈیا کو 60 ارب روپے کا نقصان

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارت کو بھاری نقصان ہو گیا۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ائیر انڈیا کو 60 ارب روپے کا نقصان، امریکہ کے لیے نان سٹاپ پروازیں چلانا نا ممکن ہو گیا۔

 

پاکستان سے کشیدگی بھارت کو مہنگی پڑ گئی۔ 27 فروری سے ہونے والی پاکستانی فضائی حدود کی وقتا فوقتا بندش سے ائیر انڈیا کو سولہ مارچ تک 60 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے ائیر انڈیا کی پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔ حکومتی بیل آؤٹ پر زندہ ائیر انڈیا کا روزانہ کی بنیاد پر نقصان بڑھ رہا ہے۔

 

یورپ کے ساتھ ائیر انڈیا کی امریکہ کے مشرقی ساحل کی جانب یعنی واشنگٹن، شکاگو اور نیویارک کے لیے پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں اور اب نان سٹاپ نہیں رہیں۔ امریکہ اور یورپ جانے والی ائیر انڈیا کی پروازوں کو ریاست گجرات کے اوپر سے ہو کر بحیرہ عرب کے راستے شارجہ یا ویانا میں ری فیولنگ کے لیے رکنا پڑتا ہے۔

 

ہر ری فیولنگ پر ائیر انڈیا کو نہ صرف 50 لاکھ کا اضافی خرچہ کرنا پڑتا ہے بلکہ ویانا میں انجینئیرنگ عملہ بھی تعینات کرنا پڑا ہے۔ خرچہ بچانے کے لیے ائیر انڈیا نے ویانا میں ری فیولنگ کو صرف 2 پروازوں تک محدود کر دیا ہے۔ ری فیولنگ کے باعث ائیر انڈیا کے بوئینگ ٹرپل سیون ای آر اور ٹرپل سیون ایل آر کی امریکہ کے لیے پرواز کا دورانیہ 18 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔

 

ائیر انڈیا کے ڈریم لائنر بوئنگ سیون ایٹ سیون کا فلائٹ آپریشن بھی پاکستانی پابندی کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے اور اسے برمنگھم اور میڈرڈ کے لیے پروازیں بند کرنا پڑی ہیں۔ دوسری طرف یورپ جانے والی ائیر انڈیا کی ہر فلائٹ کا دورانیہ بھی اوسطا 2 گھنٹے بڑھ گیا ہے۔

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں