پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کیلئے باضابطہ ڈرافٹ تیار کر لیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) پاکستان آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر کا قرض لے گا، اوگرا، نیپرا میں حکومت کی مداخلت نہیں ہو گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ ڈرافٹ تیار کر لیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آج آئی ایم ایف کو مراسلہ بھیجیں گے۔

 

نیوز ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ ڈرافٹ تیار کر لیا، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آج آئی ایم ایف کو مراسلہ بھیجیں گے، پاکستان آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر کا قرض لے گا۔ قرض کے لیے ٹیکس اور توانائی شعبے کی اصلاحات ترجیحات میں شامل ہیں۔ ڈرافٹ کے متن کے مطابق پاکستان کو ٹیکس آمدن میں ساڑھے 700 ارب روپے تک کا اضافہ کرے گا۔

متعلقہ خبر:حکومت کا آئی ایم ایف کواگلے بجٹ میں 750 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا پلان پیش

ذرائع کے مطابق ڈرافٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس کی چھوٹ مزید محدود کی جائے گی۔ حکومت موجودہ 700 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ مرحلہ وار محدود کرے گی۔ توانائی کے شعبے میں 340 ارب روپے مرحلہ وار صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت حکومت کو سبسڈی کم کرنا کرے گی۔

 

ڈرافٹ میں بتایا گیا کہ قرض پروگرام کے تحت خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی، اسٹیٹ بنک ایکسچینج ریٹ میں خود مختار فیصلے کر سکے گا۔ ڈالر کی قدر سے متعلق اسٹیٹ بینک حکومتی دباؤ کے بغیر فیصلے کرے گا۔ اوگرا، نیپرا میں حکومت کی مداخلت نہیں ہو گی۔ اوگرا، نیپرا گیس اور بجلی کی قیمتوں سے متعلق خود فیصلہ کریں گے۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں