پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ کا 90 واں یوم پیدائش

 

پبلک نیوز: پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کی مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کا آج 90 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔ گوگل نے بھی ڈوڈل ڈاکٹر رُتھ فاؤ کے نام کر دیا ہے۔  56 برس پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کی خدمت میں مصروف رہیں۔ ڈاکٹر رتھ  فاؤ نے 88 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کیا۔

 

جذام کے مریضوں کی مسیحا ڈاکٹر رُتھ فاؤ کو 90 ویں یوم پیدائش پر پاکستان اور پبلک نیوز نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ گوگل نے بھی ڈوڈل ڈاکٹر رُتھ فاؤ  کے نام کر دیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی انسانیت کی خدمت کا احاطہ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤاپنی زندگی کے 56 برس  پاکستان میں جذام  کے مریضوں کی خدمت میں مصروفِ عمل رہیں۔ آپ کو پاکستان کی 'مدرٹریسا' کہا جاتا ہے۔

 

 

ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہوئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1949 میں 'مینز' سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کو انسانی خدمات کے لیے وقف کریں۔ 1960 تک پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو لا علاج سمجھا جاتا تھا۔ اِسی دوران ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان آئیں تو جذام کے مریضوں کی حالت دیکھ کر اُنہوں نے واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔

 

 

1963 میں ڈاکٹر رتھ فاؤ نے باقاعدہ شفاخانہ خریدا۔ راولپنڈی کے بھی کئی اسپتالوں میں لیپروسی ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیے اور نیشنل لیپروسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی کاوشوں کے سبب پاکستان سے اِس لاعلاج مرض کا خاتمہ مُمکن ہوا۔ حکومتِ پاکستان نے 1988ء میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان کی شہریت دی۔ ان کی گراں قدر خدمات پر پاکستان، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا۔ لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئیں۔

 

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں