پاکستان کی امن کوششیں اور افغان بھارت گٹھ جوڑ کی رکاوٹیں

پاکستان ہمیشہ سے ہی خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور امن قائم رکھنے پر ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ جس کی مثال پاکستان کی جانب سے بھارت کے لیے کرتارپور کھولنے کے لیے کیے گئے اقدام کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔

یہاں قابل توجہ یہ امر ہے کہ فیصلہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے دھماکہ سے ایک روز قبل کیا گیا۔ یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ چینی قونصلیٹ میں ہونے والے دھماکہ کا ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو بھارت کے ہسپتال میں زیر علاج  پایا جاتا ہے۔

قبل ازیں پاکستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو کا تعلق بھی بھارت سے ہے جو خود بھی اس بات کا اقرار کر چکا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے سانحہ آرمی پبلک سکول کے تانے بانے  بھی بھارت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں افغانستان کے سافٹ امیج کے لیے پاکستان کے تعاون سے رنگا رنگ فیشن شو کا انعقاد کیا گیا، جس میں افغان ملبوسات کی نمائش کی گئی۔ لیکن بدلے میں افغانستان نے کیا دیا؟

اچانک پاکستان کا پولیس افسر اغوا ہوتا ہے اور کچھ روز بعد افغانستان سے اس کی لاش برآمد ہوتی ہے۔ اغوا ہونے والے پولیس افسر ایس پی محمد طاہر داوڑ کو کس نے اغوا کیا؟ افغانستان کیسے لے جایا گیا اور کیسے قتل کیا گیا؟ یہ ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے۔

اس ساری صورتحال سے کئی سولات جنم لیتے ہیں۔ آخر کب تک افغانستان اور بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کی خطہ میں امن پیدا کرنے کی کوششوں کو پیروں تلے روندتا رہے گا؟ کیا بھارت کی جانب سے بھی کبھی امن دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے گا؟ کیا افغانستان کی جانب سے امن کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے گی؟

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں