ڈھاکہ میں ہائی کمیشن میں نقب زنی پر پاکستان کا بنگلہ دیش سے احتجاج

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستانی ہائی کمیشن ڈھاکہ میں نقب زنی کے واقعہ پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا۔ ہائی کمیشن حکام کو واضح ثبوت ملنے کے باوجود بنگلہ دیش حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اہم دستاویزات کی چوری میں بنگلہ دیشی اداروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شیخ حسینہ واجد کی حکومت سفارتی آداب بھول گئیں۔ ڈھاکہ میں ہاکستانی ہائی کمیشن میں نقب زنی کی واردات کے بعد بھی بنگلہ دیشی حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ہائی کمیشن میں چوری کا واقعہ کسی اور ملک میں ہوتا تو یقیناً میزبان حکومت سخت شرمندہ ہوتی۔

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بنگلہ دیشی حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سے بھی آگاہ کرنے کا کہا ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے چوری کی رپورٹ درج کروا دی ہے اور بنگلہ دیشی دفتر خارجہ کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن سخت سکیورٹی کے حامل علاقہ سفارتی کالونی میں واقع ہے۔ بطور میزبان ملک ہائی کمیشن کو سکیورٹی فراہم کرنا بنگلہ دیش کی ذمہ داری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چوری کی واردات میں بنگلہ دیشی اداروں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہائی کمیشن کو مل گئے ہیں۔ چور ہائی کمیشن کی عقبی دیوار میں لگا اے سی اتار کر عمارت میں داخل ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کمیشن کی عقبی دیوار کے ساتھ بنگالی سکیورٹی اداروں کا اسلحہ ڈپو ہے اور ایک چیک پوسٹ بھی موجود ہے۔ 22 نومبر جمعرات کی شام نقب لگائی گئی جس کے بعد سرکاری تعطیلات کے باعث 25 نومبر کو پاکستانی ہائی کمیشن نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کروائی۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں