کتے کے کاٹنے سے زخمی ہونے والی بچی کیلئے اینٹی ریبیز ویکسین ملنا مشکل

اسلام آباد(فوزیہ چوہدری) کتے کے کاٹنے کی صورت میں کسی بھی مریض کیلئے اینٹی ریبیز ویکسین ناگزیر ہو جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے میں آج کل یہ انتہائی اہم ویکسین نایاب ہو چکی ہے یا مارکیٹ سے غائب کر دی گئی ہے۔ قومی ادارہ صحت پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسن تیار کرتا ہے۔

 

خیبر پختونخوا کے علاقے پارا چنار میں میں اڑھائی سالہ توسل کتے کے کانٹے سے شدید زخمی ہوئی، لیکن پورے ضلع سے اینٹی ربیز ویکسن نایاب ہو گئی۔ ننھی بچی زخموں سے تڑپتی رہی اور وآلدین ڈسڑکٹ ہسپتال پارا چنار میں بچی کی ویکسن کے لیے کی درد بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے اور پارچنار میں کتے کے کانٹے کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، لیکن انتظامیہ کی ناہلی کے باعث ویکسین ملتی نہیں اور اگر مل بھی جائے تو قیمت 8 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

 

پبلک نیوز اسلام آباد میں بھی دو ہفتے قبل بھی اینٹی ریبز ویکسن سمیت دیگر ادویات غائب ہونے کا معاملہ سامنے لایا تھا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کچھ مہنیوں سے امپورٹ بند ہونے کے باعث ویکسن کی قلت ہے۔ اینٹی ریبیز ویکسین کی بڑی مقدار بھارت سے منگوائی جاتی ہے لیکن کشیدہ صورتحال کے باعث درآمد بند ہو چکی ہے اور اس کا کوئی متبادل انتظام بھی نہیں کیا گیا۔ ڈریپ کے مطابق اینٹی ریبز ویکسن کی فراہمی کے لیے ملک میں پانچ سورسز کام کر رہے ہیں۔

 

قومی ادارہ صحت پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسن تیار کرتا ہے۔ قومی ادراہ صحت کو ویکسین کی پیداوار دس لاکھ سالانہ تک بڑھانے لیے وزرات صحت کی توجہ اور فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ادویات کی قلت سے سمگلڈ ادویات کا کاروبار عروج پر ہے جو افسوسناک ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں