پشاور ہائیکورٹ نے ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد اضافے پر عملدرآمد روک دیا

پشاور(پبلک نیوز) پشاور ہائیکورٹ نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ سے متعلق نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روک دیا۔ درخواست گزار کے وکیل نور عالم خان کا مؤقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت حکومت عوام کو ریلیف دینے اور اُن کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے۔

 

عدالت عالیہ پشاور کے جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مس مسرت ہلالی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ پر عملدرآمد روک دیا۔ عصمت اللہ خان نامی ایک شہری کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

 

فاضل ڈویژن بینچ نے نور عالم خان ایڈوکیٹ کے دلائل کے بعد حکومت کا قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن معطل کر کے حکومت اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیا، 3انہیں فروری کو جواب طلب کر لیا۔ فاضل عدالت نے درخواست گزار کو یہ بھی ہدایت کی کہ اگر کسی کمپنی یا دوکاندار نے مذ کورہ ادویات کو چھپانے یا ذخیرہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے بارے میں بھی عدالت کو مطلع کیا جائے۔

 

رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ 70 فیصد غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت حکومت عوام کو ریلیف دینے اور اُن کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد حکم امتناعی جاری کر کے اس نوٹیفکیشن پر عمل درامد روک دیا۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں