پشاور یونیورسٹی: فیس میں اضافے پر طلبا کا احتجاج، پولیس کا دھاوا

پشاور (پبلک نیوز) پشاور یونیورسٹی کا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ فیسوں میں اضافے کےخلاف طلبا نے احتجاج کیا تو پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد طلبا زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے طلبا نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طلبا پر لاٹھی چارج بھی کیا جس سے متعدد طلبا زخمی ہو گئے۔ پشاور پولیس نے درجن سے زائد طلبا کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ مظاہرین پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

طلبا کا  کہنا تھا کہ فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کرکے غریب طلبا کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان پر دھاوا بولا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ فیسوں میں کمی کرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ پر فنڈز میں خرد برد کا الزام بھی لگایا۔

دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فیسوں میں اضافہ 2سال بعد کیا گیا ہے۔ طلبا نے دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کی اور ایڈمن بلاک میں داخل ہوئے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی یونین لیڈر رہے ہیں، ایسا احتجاج ٹھیک نہیں۔ کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں