اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

لاہور(محمود اعوان) اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ نیب افسران کی بے بسی پر ترس آتا ہے، عدالت ایک ہی بار تین ماہ کے ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیں۔ عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی ہے۔


نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر احتساب عدالت پیش کیا۔ دوران سماعت نیب کے پر اسیکوٹر نے دلائل دئیے کہ حمزہ شہباز سے 16.88 ملین سے ماڈل ٹاؤن میں خریدے گئے پلاٹ کا پوچھا گیا لیکن حمزہ نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ حمزہ شہباز اپنے اکاونٹس میں منتقل ہونے والی رقوم کے بارے میں بھی نہیں بتاسکے، لہذا عدالت حمزہ شہباز سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے انکے جسمانی ریمانڈ میں 15 دن کی توسیع کی جائے۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ 2008-2007  میں حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے۔ بیرون ملک سے حمزہ شہباز کی جنتی رقم آئی پراپر چینل کے ذریعے آئی ہے ،لہذا حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جائے۔ دوران سماعت حمزہ شہباز خود روسٹرم پر آئے اور بیان دیا کہ نیب والے مجھ سے ایک ہی سوال بار بار پوچھتے ہیں، جب میں جواب دیتا ہوں تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کہ بیٹھ جاتے ہیں، اب مجھے نیب افسران کی بے بسی پر ترس آتا ہے۔

 

مجھے ایک ہی بار 3ماہ کے لیے ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیں۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر کرپشن ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا جس پر جج امیر محمد نے استفسار کیا کہ اپ سیاست چھوڑے یا نہ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ عدالت نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے 24 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔


عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں