لوگ پی ٹی آئی کا مذاق اڑاتے تھے کہ تانگہ پارٹی ہے: وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کے بجائے اپنا سوچنا شروع کر دیا۔ حکمرانوں کی چوری ملک کو تباہ کر دیتی ہے۔ حکمران ہی ملک کو اٹھاتے اور ڈبوتے ہیں۔ 60کی دہائی میں پاکستان بہت اوپر جارہا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو آج 23سال ہوگئے ہیں۔ جدوجہد کبھی سیدھی نہیں ہوتی، اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ ایمان والے انسان کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے۔

"حکمرانوں کی چوری ملک کو تباہ کر دیتی ہے"

انھوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا کی ترقی میں مہاتیر محمد کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ اللہ نے حکم دیا نبی اکرمؐ کی زندگی سے سیکھو۔ نظریہ پاکستان کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست تھا۔ نوجوان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق پڑھیں۔

اپنے خطاب میں واضح کیا کہ تحریک انصاف کو پہلے الیکشن میں ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ ہمیں دوسرے الیکشن میں صرف ایک سیٹ ملی۔ لوگ پی ٹی آئی کا مذاق اڑاتے تھے، کہتے تھے تانگہ پارٹی ہے۔ کوشش اورنیت انسان کے ہاتھ میں،کامیابی اللہ دیتا ہے۔ میں حضرت محمدؐ کی زندگی سے سیکھا ہے۔ اگرقائداعظم نہ ہوتے توپاکستان معرض وجودمیں نہ آتا۔

"تحریک انصاف کو پہلے الیکشن میں ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ دوسرے میں صرف ایک سیٹ ملی"

ان کا کہنا تھا کہ 23سالوں میں 2طرح کے لوگ میرے ساتھ چلے۔ جدوجہد انسان کو مضبوط کرتا ہے۔ قائداعظم نے مسلسل 40سال جدوجہد کی۔ 60سال میں پاکستان کا قرض 6ہزار ارب تھا۔ گزشتہ 10سال میں قرضہ30ہزار ارب تک پہنچ گیا۔ اس وقت ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

عمران خان نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ ڈالر کم ہوتا ہے تو روپے کی قیمت گر جاتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے پہلے 8مہینوں میں 21.7فیصد مہنگائی ہوئی۔ ن لیگ کے پہلے 8مہینوں میں 8فیصد مہنگائی ہوئی۔ پی ٹی آئی کے پہلے 8مہینوں میں میں 6.8فیصد مہنگائی ہوئی۔

"ہم نے طاقتوراور کمزور کے لیے ایک قانون لے کر آنا ہے"

وزیراعظم نے کہا کہ ساری جماعتیں کہہ رہی ہیں حکومت فیل ہو گئی ہے۔ ساری دنیا سے پاکستان کو منی لانڈرنگ کی اطلاع مل رہی ہے۔ چوری کاپیسہ ملک سے باہر بھیجنا منی لانڈرنگ ہے۔ تمام کیسز ہمارے دور حکومت سے پہلے کے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں حکومت گر جائے اور ہمارے پیسے بچ جائیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اپوزیشن کے شور کا واحد مقصداین آراوحاصل کرنا ہے۔ پرویز مشرف کے 2این آراو کی وجہ سے ملک پرقرضہ بڑھا۔ میں کسی صورت بھی این آراو نہیں دوں گا۔ نوازشریف علاج کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں۔ کتنے لوگ جیلوں میں مرجاتے ہیں ان کا علاج نہیں ہوتا۔ 22سال اقتدارمیں رہے لیکن ایک اسپتال نہیں بنا سکے۔

"میں کسی صورت بھی این آراو نہیں دوں گا"

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے طاقتوراور کمزور کے لیے ایک قانون لے کر آنا ہے۔ غربت مٹانے کے لیے "احساس"پروگرام شروع کیا ہے۔ 50لاکھ گھروں کا منصوبہ شروع کردیا ہے۔ انشاءاللہ پاکستان جلدسیاحت کاحب بنے گا۔ صرف سیاحت کی آمدن سے ہی سرکلر ڈیٹ ختم ہوجائے گا۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ چین نے زراعت کوسی پیک میں شامل کرلیا ہے۔ آف شور ڈرلنگ کا نتیجہ آنے میں 2ہفتے رہ گئے ہیں۔ اگرمتوقع گیس نکلی تو اگلے 50سال میں پاکستان کے لیے کافی ہوگی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں