کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے وزیراعظم خود میدان میں آ گئے

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا معاشی حب ہونے کے ناطے پاکستان کا مستقبل کراچی کے مستقبل سے جڑا ہے۔ کراچی کی عوام کو درپیش مسائل پر شدید تشویش ہے۔ کراچی جیسے شہر میں گندگی نا قابل برداشت ہے، معاملہ خود حل کروں گا اور وسائل بھی دیں گے۔

 

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کراچی صفائی مہم اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء بیرسٹر فروغ نسیم، مخدوم خسرو بختیار، خالد مقبول صدیقی، سید علی حیدر زیدی، معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، ممبر قومی اسمبلی آفتاب حسین صدیقی، ممبران سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی حلیم عادل صدیقی، ڈی جی فرنٹیر ورکس آرگنائیزیشن میجر جنرل انعام حیدر ملک اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں کراچی کی عوام کو درپیش مسائل خصوصاً پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی، ماس ٹرانزٹ سسٹم و دیگر اہم ایشوز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈی جی فرنٹیر ورکس آ رگنائیزیشن میجر جنرل انعام حیدر ملک نے کلین کراچی مہم میں اب تک کی پیش رفت پر شرکاء کو بریف کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کا معاشی حب ہونے کے ناطے پاکستان کا مستقبل کراچی کے مستقبل سے جڑا ہے۔ ماضی کی بد انتظامی اور غفلت کا خمیازہ کراچی کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت سے لے کر کراچی کی عوام کی زندگیوں کو صحت کے معاملے میں شدید خطرات لاحق ہیں۔ کراچی کو گندگی سے نجات دلانا اور شہر کی رونقین بحال کرنا میری اولین ترجیح ہے۔

 

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی عوام کو در پیش مسائل پر شدید تشویش ہے۔ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ کراچی کے مسائل کو حل کیا جائے تا کہ وہاں کی عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں وفاقی حکومت ہر ممکن کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گی۔ کراچی جیسے شہر میں گندگی نا قابل برداشت ہے، معاملہ خود حل کروں گا اور وسائل بھی دیں گے۔

 

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہفتہ کو کراچی جائیں گے اور شہر کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ کراچی کی عوام کو در پیش مسائل کے حل میں وفاقی حکومت کی جانب سے شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے وزیرِ اعظم نے وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی وزیرِ قانون، وزیرِ بحری امور، وزیرِ منصوبہ بندی، ڈی جی ایف ڈبلیو او و دیگر ممبران پر مشتمل ہو گی۔ کمیٹی کو مجوزہ لائحہ عمل کے بارے میں سفارشات جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں