مدینہ کی ریاست کو پڑھے بغیر پتا نہیں چلے گا پاکستان کیوں بنا: وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بندوق کی نوک پر کسی کا مذہب تبدیل کرانا غلط ہے۔ دین میں کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں۔ ملک کو مقروض کرنے والوں کو پکڑیں تو کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں اقلیتوں کے حوالے سے منعقد کی جانے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگوں نے اسلام کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ریاست مدینہ نئے پاکستان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مدینہ کی ریاست ایک جدید ریاست تھی۔ دین میں کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں۔ بندوق کی نوک پر کسی کا مذہب تبدیل کرانا غلط ہے۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کا اقلیتوں سے سلوک ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی قیامت تک ہمارے لیے مثال رہے گی۔ اللہ نے بھی نبی کریم ﷺ کو پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں کہا ہم سب آدم کی اولاد ہیں۔ ریاست مدینہ میں خلیفہ وقت بھی جواب دہ ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے تعلیم پر بہت زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مقروض کرنے والوں کو پکڑیں تو کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔ اقلیتوں سمیت تمام مسائل کی وجہ قانون کی بالادستی نہ ہونا ہے۔ یہاں جو زیادہ بڑا مجرم ہے اسے زیادہ سہولیات میسر ہیں۔ طاقتور کے خلاف کتنے غریب کیس جیت سکتے ہیں؟ پاکستان میں غریب آدمی کسی امیر کے خلاف کیس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ گزشتہ حکومت کی عیاشیوں سے کمزور طبقہ پس رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ سنت کے مطابق اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ دیں گے۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے پاکستان کو ویژن دینا چاہتا ہوں۔ مدینہ کی ریاست کو پڑھے بغیر پتا نہیں چلے گا پاکستان کیوں بنا۔ لوگ سمجھتے ہیں ریاست مدینہ کی بات ووٹ لینے کے لیے کرتا ہوں۔ ہمیں پتا ہے کن لوگوں نے اسلام کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ریاست مدینہ میں سب کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ لوگوں کو دین کے نام پر مارنا یا زبر دستی مسلمان کرنا اسلام کے خلاف ہے۔ دین اسلام ہمیں محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق دیتا ہے۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں