نئے بلدیاتی نظام میں میئر اور تحصیل ناظم براہ راست منتخب ہوں گے: وزیراعظم

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پرانے نظام کی وجہ سے مقامی سطح پر بہت زیادہ کرپشن ہوتی تھی۔ نئے بلدیاتی نظام کے تحت ولیج کونسل، پنچائت کے براہ راست انتخابات ہوں گے اور ترقیاتی کاموں کے لیے ولیج کونسل کو براہ راست فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

 

پنجاب اور کے پی میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام سے نئی قیادت سامنے آئے گی۔ نئے بلدیاتی نظام میں ویلج کونسل کے براہ راست انتخاب ہوں گے۔ اس نظام کے تحت فنڈز براہ راست گاؤں کو جاتے ہیں۔ گزشتہ نظام میں ضلع ناظم بلاواسطہ انتخاب سے منتخب ہوتا تھا۔ تحصیل ناظم کو بھی براہ راست منتخب کیا جائے گا۔ پرانے نظام کی وجہ سے مقامی سطح پر بہت کرپشن ہوئی۔

پنجاب میں 22 ہزار پنچائیت کا الیکشن ہو گا۔ 40 ارب روپیہ پنچایت کو براہ راست جائے گا۔ کے پی اور پنجاب کا 30 فیصد فنڈ براہ راست ترقیاتی فنڈ میں جائے گا۔ نیا بلدیاتی نظام پوری دنیا کے نظام کا مطالعہ کرنے کے بعد تیار کیا گیا۔ بوسیدہ نظام کی وجہ سے شہر کھنڈرات بنتے جارہے ہیں۔ شہروں میں توسیع سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔ نئے بلدیاتی نظام میں یونین کونسل کو ختم کر دیا جائے گا۔

 

بڑے شہروں میں میئر براہ راست منتخب ہو گا۔ میئر منتخب ہونے کے بعد اپنی کابینہ خود لائیں گے۔ ہم اپنے تجربات سے سیکھ کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ مجھے نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سےآ رہی ہیں۔ ملک میں صدارتی نظام نہیں آرہا۔ صدارتی نظام کے لیے پہلے پوری پارلیمنٹ کو متحد کرنا ہو گا۔ عوام کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صوبوں کے پاس پیسا اکھٹا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبے ٹیکس اکھٹا کرنے میں ناکام رہے۔ عوام کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 18ویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہو گیا۔ اب ہر شہر اپنا ریونیو خود جمع کیا کرے گا۔ ہم نیچے جا رہے ہیں اس کا مطلب ہے ہمیں نیا اسٹر کچر چاہئے۔

حارث افضل  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں