وزیراعظم نے اپوزیشن کے مطالبے پر استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا، اپوزیشن سب کچھ این آر او کے لیے کر رہی ہے، کرپٹ عناصر کو این آر او نہیں ملے گا۔ چار حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت لیے چار ماہ پھرتے رہے۔ نواز شریف کے مستقبل کافیصلہ عدالتیں کریں گی۔

 

وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں نے ملاقات کی، ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم  نے ملاقات کے دوران کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری بڑا مسئلہ ہے اس پر کام کر رہے ہیں۔ نوازشریف کے مستقبل کافیصلہ عدالتیں کریں گی، معلوم نہیں اپوزیشن کس ایجنڈے پر چل رہی اُن کے پاس مجھ سے استعفیٰ مانگنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، دھرنا پہلے سے طے شدہ ہے۔ دھرنے کی وجہ سے استعفیٰ نہیں دوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر بھارت میں جشن منایا جا رہا ہے۔ لگتا ہے ان کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ فضل الرحمان کو سنجیدہ ہو کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔ آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہر شخص کو احتجاج کا مکمل حق ہے۔ دھرنے سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم نے کہا انہوں نے دھرنا ایسے ہی نہیں دیا تھا۔ میرے پاس چار حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت موجود تھے، مولانافضل الرحمان سے مذاکرات کیے جارہے ہیں، حکومت نے پیمرا کو کسی کا بھی انٹرویوو نشر کرنے سے نہیں روکا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے این آر او کے لیے سب کچھ کیا جا رہا ہے مگر حکومت کسی قسم کا این آر او نہیں دے گی۔ آج حکومتی اقدامات کی وجہ سے معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ مستقبل میں روپے کی قدر مزید مستحکم ہو گی، مہنگائی اور بےروزگاری بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے کام جاری ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے سعودی عرب اورایران میں جنگ ہوجائے، خواہش ہے ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی پاکستان میں میٹنگ کراؤں، بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پلواما جیسا ایک اور ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ آرمی چیف کو کہہ دیا کہ فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں۔۔ کوئی مس ایڈونچر ہو تو بھرپور جواب دیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں